رُتوں کے قافلے چلتے رہیں گے دکھ اپنے وقت پر پَھلتے رہیں گے
Read MoreTag: خالد احمد
خالد احمد
سامان بہم کر ، کہ نہ لوٹے کبھی خالی یا رب ، کوئی مجھ بے سر و سامان کے در سے
Read Moreخالد احمد
کچھ سانس بچ رہے تھے سو وہ سانس بھی لیے وعدہ خلاف تھے ، سو ترے بعد جی لیے
Read Moreخالد احمد
مری بات کہتے رہنا ، یہ قلم اُٹھائے رکھنا یہ علَم فرو نہ کرنا ، یہ فلک سجائے رکھنا
Read Moreخالد احمد ۔۔۔ دو غزلہ (وہ چرچا جی کے جھنجھٹ کا ہوا ہے)
وہ چرچا جی کے جھنجھٹ کا ہوا ہے کہ دل کا پاسباں کھٹکا ہوا ہے وہ مصرع تھا کہ اِک گل رنگ چہرہ ابھی تک ذہن میں اٹکا ہوا ہے ہم اُن آنکھوں کے زخمائے ہوئے ہیں یہ ہاتھ ، اُس ہاتھ کا جھٹکا ہوا ہے یقینی ہے اَب اِس دل کی تباہی یہ قریہ ، راہ سے بھٹکا ہوا ہے گلوں کے قہقہے ہیں، چہچہے ہیں چمن میں اِک چمن چٹکا ہوا ہے گلہ اُس کا کریں کس دل سے، خالد! یہ دل کب ایک چوکھٹ کا ہوا ہے…
Read Moreخالد احمد
وہ مصرع تھا کہ اِک گل رنگ چہرہ ابھی تک ذہن میں اٹکا ہوا ہے
Read Moreخالد احمد
لڑکھڑا کر دم نہ دے دیں ڈگمگاتی دوریاں دل میں بجھتی لو کی صورت کپکپاتی دوریاں
Read Moreخالد احمد
آپ بھی دیں دامن کی ہوائیں پُھول کہاں تک آگ لگائیں
Read Moreخالد احمد
خالد وہ مجھے ہنسا ہنسا کر کچھ اور اُداس کر گیا تھا
Read More