عمران اعوان ۔۔۔ تیرا گر مان بھی نہیں ہوتا

تیرا گر مان بھی نہیں ہوتا اتنا ہیجان بھی نہیں ہوتا چھوڑ دینا کسی کو رستے میں اتنا آسان بھی نہیں ہوتا میں کسی کے بھی چھوڑ جانے پر اب تو حیران بھی نہیں ہوتا اپنی رکتی ہوئی روانی پر دل پریشان بھی نہیں ہوتا ہجر کچھ اس طرح کی ہجرت ہے ساتھ سامان بھی نہیں ہوتا جتنا میں لگ رہا ہوں چہرے سے اتنا انجان بھی نہیں ہوتا قائدے گر نہ توڑتا آدم ایک انسان بھی نہیں ہوتا خوف کے بت نہیں بناتے تو آج بھگوان بھی نہیں ہوتا

Read More

اکمل حنیف ۔۔۔ یہ جو سب سے الگ کھڑا ہوں میں ماہنامہ بیاض اپریل 2023 )

یہ جو سب سے الگ کھڑا ہوں میں سب کے چہروں کو پڑھ چکا ہوں میں خود سے ملنے کا راستہ ہے یہی تجھ سے ملنے کو چل پڑا ہوں میں یاد آئی ہے رفتگاں کی مجھے اپنی آنکھوں سے بہہ رہا ہوں میں دکھ یتیمی کا کمسنی میں ملا اس لیے عمر سے بڑا ہوں میں اتنا قد بھی مرا غنیمت ہے پیڑ کے سائے میں اُگا ہوں میں دل ابھی تک ہے بورے والا میں گرچہ لاہور آ گیا ہوں میں مجھ کو رہتی نہیں معاش کی فکر…

Read More

خالد علیم

دلِ آزردہ بھی کیا خوش نظری رکھتا ہے اپنی ہر رات ستاروں سے بھری رکھتا ہے

Read More

شاہین عباس

گم شدہ شخص تھا سو میں پایا گیا وہیں کہیں خواب کی لو جہاں پڑی، خاک کا رخ جدھر ہوا

Read More

نعتِ رسولِ مقبولﷺ … ناصر زیدی

نعتِ رسولِ مقبولﷺ نہ مال و زر کی، نہ جاہ و حشم کی خوشبو تھی سوادِ قلب و نظر میں حرم کی خوشبو تھی عجب نشہ تھا کہ خود پر بھی اختیار نہ تھا مشامِ جاں میں وہ جود و کرم کی خوشبو تھی قریب روضۂ اقدس کی جالیاں تھیں مرے عقیدتوں میں بسی چشمِ نم کی خوشبو تھی کِھلا ہُوا تھا چمن ہر طرف مرادوں کا حضورؐ آپ کے ہی دم قدم کی خوشبو تھی جب آپ آئے تو ایمان وہ بھی لے آئے وہ جن کے ذہن میں…

Read More

یزدانی جالندھری

ایک درویشِ جہاں دار ہے یزدانی بھی آپ نے شہر میں اکثر اُسے دیکھا ہو گا

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ جذبوں کو زبان دے ر ہا ہوں

جذبوں کو زبان دے ر ہا ہوں میں وقت کو دان دے رہا ہوں موسم نے شجر پہ لکھ دیا کیا ہر حرف پہ جان دے رہا ہوں یوں ہے نمِ خاک بن کے جیسے فصلوں کو اُٹھان دے رہا ہوں جو جو بھی خمیدہ سر ہیں اُن کے ہاتھوں میں کمان دے رہا ہوں کیسی حدِ جبر ہے یہ جس پر بے وقت اذان دے رہا ہوں اوقات مری یہی ہے ماجد ہاری ہوں, لگان دے رہا ہوں

Read More

سید آل احمد

آنکھیں پیار کی دھوپ سے جھلسی جاتی ہیں روشن ہے اب چہرہ درد کے غازے سے

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔ ہے سخاوت میں مجھے اتنا ہی اندازۂ گل

ہے سخاوت میں مجھے اتنا ہی اندازۂ گل بند ہوتا نہیں کھل کر کبھی دروازۂ گل برق پر پھول ہنسے، برق نشیمن پہ گری میرے تنکوں کو بھگتنا پڑا خمیازۂ گل خیر گلشن میں اُڑا تھا مری وحشت کا مذاق اب وہ آوازۂ بلبل ہو کہ آوازۂ گل کوششیں کرتی ہوئی پھرتی ہے گلشن میں نسیم جمع ہوتا نہیں بکھرا ہو شیرازۂ گل اے صبا کس کی یہ سازش تھی کہ نکہت نکلی تو نے کھولا تھا کہ خود کھل گیا دروازۂ گل

Read More

خالد علیم

اَنا کی اندھی گلی سے گزرنے والوں کو کہے یہ کون کہ اس میں سلامتی کم ہے

Read More