مجبور انگلیوں نے وہ نمبر مِلا لیا یکدم ہی زندگی کو سماعت نے آ لیا لہجے میں اک جلے ہوئے رشتے کی آنچ تھی یخ بستگی کا بوجھ اسی نے اٹھا لیا آواز تھی کہ ایک بھڑکتا الاؤ تھا ہم نے بھی لفظ لفظ کو مشعل بنا لیا تھوڑی سی بے نیام تھی شمشیرِ گفتگو اس کو بھی اَن سُنی کی رِدا میں چھپا لیا جس لفظ پر شکوک بڑھانے کا شک پڑا اس کا فساد بات بدل کر دبا لیا جھکّڑ تھمے تو گردِ گلہ ساز بھی چھَٹی طوفاں…
Read MoreTag: best urdu poetry
خالد احمد
ترا ہاتھ دیکھتے دیکھتے، مرے ہاتھ پر بھی نہ کھینچ دے خطِ قلب و ذہن کے درمیاں، وہ خطِ غبار یہیں کہیں
Read Moreفیس بُک کے آئینے میں (حامد یزدانی کے لیے ایک نظم) ۔۔۔۔۔۔۔۔ خالد علیم
فیس بُک کے آئینے میں (حامد یزدانی کے لیے ایک نظم) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حامد یزدانی! اے حامد یزدانی! تم کس خواب نگر میں اپنا دل کش ماضی کھوج رہے ہو ماضی تو ماضی ہے — اپنا آج بھی ماضی ہو جائے گا نئے دنوں میں کھو جائے گا نئے دنوں میں ایک نیا کیا خواب نگر آباد کروگے؟ خواب نگر—تو ایک کھنڈر ہے وحشت کا، وحشت میں رکھی دانائی کا دہشت کا، دہشت میں عریاں تنہائی کا خواب نگر جو خواب ہے دل سے سودائی کا کیا تم بھی سودائی ہو؟…
Read Moreحامد یزدانی ۔۔۔۔۔۔۔ پُرانی شال میں قوسِ قزح کو بھرتے ہُوئے
پُرانی شال میں قوسِ قزح کو بھرتے ہُوئے زمیں نے آئنہ دیکھا نہیں سنورتے ہُوئے مِرے خیال کے سب رُوپ، اپنے حُسن کی دھوپ وہ لے اُڑا ہے مِرے خواب سے گذرتے ہوئے کچھ ایسے دوست نہیں ہیں توازن و رفتار رہا نہ دھیان میں ڈھلوان سے اُترتے ہُوئے کوئی چراغ جلا کر منڈیر پر رکھ د و ہَوا اُداس نہ ہو جائے پھر گذرتے ہُوئے کہیں جو گھر سے اُدھر بھی مِر ا ہی گھر نکلا ! ٹھٹھک گیا تھا میں دہلیز پار کرتے ہُوئے تِرے پڑوس میں صحر…
Read Moreحبیب الرحمان مشتاق
یہ قیس نام کے بندے سے اس کو کیا نسبت ازل سے دشتِ جنوں میری شاملات میں ہے
Read Moreسجاد بلوچ ۔۔۔۔۔۔۔ تم غلط سمجھے ہمیں اور پریشانی ہے
تم غلط سمجھے ہمیں اور پریشانی ہے یہ تو آسانی ہے جو بے سر و سامانی ہے خواہشِ دید دمِ وصل جو نکلی نہیں تھی لمحہء ہجر میں تجرید کی عریانی ہے کیوں بھلا بوجھ اٹھاؤں میں ترے خوابوں کا میرے آئینے میں کیا کم کوئی حیرانی ہے ڈوب جاتا ہے سرِ شام ہمارا دل بھی یہ بھی سورج کی طرح رات کا زندانی ہے خود کو ہم بیچ کے اک خواب تو لے پائے نہیں تیرے بازار میں کس چیز کی ارزانی ہے کس بھروسے پہ میں ٹکراؤں ہوا…
Read Moreدریچہ ۔۔۔۔۔۔۔ عنبرین صلاح الدین
دریچہ ۔۔۔۔۔ رات ہے آخری سانسوں پہ کہ دن ٹوٹ کے ٹکڑوں میں نکل آیا فلک کے در سے نا مکمل کئی وعدوں کی طرح دستِ افلاک سے لٹکے ہوئے دُھندلے تارے منتظر آنکھوں میں آگرتے ہیں لمحہ لمحہ گُونج اُٹھتی ہے کہیں رنج میں ڈوبی آواز صبح کا راز عیاں کرتا یہ پہلا پنچھی جس کے پر میری نگاہوں کی طنابوں سے بندھے کھینچ دیتا ہے وہاں ایک سِرے سے لے کر میری بے خوابی کی سُرخی سے اُفق پر پھیلی ایک بے انت لکیر شام تک کھوجتا پھرتا…
Read Moreقلندر بخش جرات
اے ستم ایجاد! کب تک یہ ستم دیکھا کریں تو کرے غیر سے باتیں اور ہم دیکھا کریں
Read Moreوقت سے پہلے ۔۔۔۔۔ ندا فاضلی
وقت سے پہلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوں تو ہر رشتہ کا انجام یہی ہوتا ہے پھول کھلتا ہے مہکتا ہے بکھر جاتا ہے تم سے ویسے تو نہیں کوئی شکایت لیکن شاخ ہو سبز تو حساس فضا ہوتی ہے ہر کلی زخم کی صورت ہی جدا ہوتی ہے تم نے بیکار ہی موسم کو ستایا، ورنہ پھول جب کھل کے بہک جاتا ہے خود بخود شاخ سے گر جاتا ہے
Read Moreعبد الحمید عدم ۔۔۔۔۔ ہائے کس ، ڈھب کی بات ہوتی ہے
ہائے کس ، ڈھب کی بات ہوتی ہے گیسو و لب کی بات ہوتی ہے جانِ من! کب کا ذکر کرتے ہو جانِ من! کب کی بات ہوتی ہے آپ اکثر جو ہم سے کرتے ہیں وہ تو مطلب کی بات ہوتی ہے آؤ ،تھوڑا سا نور لے جاؤ ماہ و کوکب کی بات ہوتی ہے جب بھی ہوتا ہے دن کا ذکر عدم ساتھ ہی شب کی بات ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: بطِ مے مطبوعہ: اپریل ۱۹۵۷ء کتاب گھر، امرتسر
Read More