رات ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔ تم کو پا لینے کی دُھن میں دُنیا اوڑھی رنگ برنگے کپڑے پہنے پیشانی پر سورج باندھا آنگن بھر میں دھوپ بچھائی دیواروں پر سبزہ ڈالا پھولوں، پتّوں سے اپنی چوکھٹ رنگوائی موسم آئے موسم بیتے سورج نکلا، دھوپ کھلی پھر دھوپ چڑھی پھر اور چڑھی پھر شام ہوئی پھر گہری کالی رات ہوئی! ………………………….. مجموعہ کلام: شاعری نہیں ہے یہ عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی ۲۰۱۱ء
Read MoreTag: nazm
میں ستارہ نہیں ۔۔۔ ازہر ندیم
میں ستارہ نہیں! ۔۔۔۔۔۔۔ میں ستارہ نہیں یہ مری روشنی میرے باطن میں اک ضو فشاں آگ کا نام ہے یہ مرے چار سو ایک ہالہ جو تم کو نظر آتا ہے اس کے مرکز کے اندر مری نظم ہے ایک تقدیس کے دائرے میں مسلسل چمکتی ہوئی یہ مرے روبرو جتنے اجسام ہیں ان پہ اُتری ہے لَو چاندنی کی طرح یہ مری زندگی جس میں تھی تیرگی ایسے تاباں ہوئی تختہِ خاک سے ہفت افلاک تک جس قدرتھے زمانے، درخشاں ہوۓ یہ مرے لفظ تھےاک محبت کی حدّت…
Read Moreبیمار گلاب ۔۔۔ منیر نیازی
بیمار گلاب ۔۔۔۔۔۔ لال گلاب کے پھول تجھے تو روگ لگا ہے وہ کیڑا جو شور مچاتے طوفانوں میں رات کو اڑتا پھرتا ہے اور آنکھ سے اوجھل رہتا ہے اس نے تیری خوشیوں کا رنگیلا بستر دیکھ لیا ہے اس کی بھید بھری چاہت نے تن من تیرا پھونک دیا ہے ………………….. (ولیم بلیک کی نظم کا ترجمہ)
Read Moreکنہیا لال کے نام خط ۔۔۔ یونس متین
کنہیا لال کے نام خط ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کنہیا لال!کیسے ہو۔۔۔۔؟ سُنا ہے آج کل کشمیر کی وادی میں آہ و آتش و آہن کی بارش روز ہوتی ہے وہاں بارُود پھٹتا ہے فضا میں پھول سے معصوم بچوں کے بدن جب ریزہ ریزہ ہو کے اُڑتے ہیں تو مائوں کے کلیجے ساتھ ہوتے ہیں کنواری بچیوں کی عصمتوں کے داغ فاتح فوجیوں کے سرد سینوں پر چمکتے ہیں یہ تمغے ہیں۔۔۔؟ کنہیا لال!یہ کیسی سیاست ہے۔۔۔؟ سرِ کشمیر زندہ پانیوں پر موت کی تہمت لکھی جائے کسی انکار سے، تحریر کے…
Read Moreاِسی دن ۔۔۔ غلام محمد قاصر
اِسی دن ۔۔۔۔۔ اِسی دن آسمانی خواب کی ہم نے ہری تعبیر پہنی تھی ہمارے ہاتھ میں نصرت کا پرچم اور امکانات کے پھولوں کی ٹہنی تھی ہم اس کی خواب گوں جھنکار سے آگے نکل آئے کئی نسلوں نے جو زنجیر پہنی تھی سنہرے لفظ دیواروں پہ کندہ ہوتے جاتے تھے اجالوں کی طرف چُپکے سے وہ ہم کو بلاتے تھے سبھی تسلیم کرتے ہیں وہی بنتا ہے سچائی کو جب تجسیم کرتے ہیں ہم اپنے رہنما کی اس طرح تعظیم کرتے ہیں کہ اس کے خواب کو تقسیم…
Read Moreگلگشت ۔۔۔ مجروح سلطان پوری
گلگشت ۔۔۔۔ یہ سوچا چل کے ارضِ کاشمر پر پِھروں اک بار مَیں بھی ہو کے سرمست وہاں پہنچا تو دیکھا وادئ گل خزاں کے رنگ ہیں بالا ہو یا پست خس و خاشاک بکھرے ہیں چمن میں نہ کشتِ گل نہ سبزے کا دَر و بست اُگے ہیں چار سُو پودوں کے مانند کہیں پر سر کہیں پر بازو و دَست سپاہِ امن، لشکر تا بہ لشکر پڑی ہے چشمہء خوں پر سیہ مست عجب آوازِ گریہ تھی فضا میں لگا سینے سے دل، کر جائے گا جست مَیں…
Read Moreآتش فشاں ۔۔۔ ستیہ پال آنند
آتش فشاں ۔۔۔۔۔۔ ذہن کے گہرے اندھیرے زخم کا اندھا دہانہ بھر گیا اور درد قدرے کم ہوا تو میں نے سوچا آنے والے دن یقیناً زخم کے احساس کو بھی مندمل کرنے میں میرا ساتھ دیں گے آنے والے دن بھلا کب جانتے تھے زخم کے اندر نہاں سیال لاوے کا جو بحرِ بے کراں ہے وہ دہانے کو کسی آتش فشاں کی آنکھ کی مانند یوں کھولے گا، ساری وادیاں، پگ ڈنڈیاں، چٹیل ڈھلانیں غرق ہو جائیں گی ۔۔۔ سارا ذہن خود اِک زخم بن جائے گا ۔۔۔…
Read Moreستیہ پال آنند کی نظم نگاری ۔۔۔ ڈاکٹر وزیر آغا
ستیہ پال آنند کی نظم نگاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند کی اُردو نظموں کا ایک خاص وصف یہ ہے کہ ان میں امیجز اور ان سے جڑے ہوئے معانی سیدھی لکیر اختیار نہیں کرتے۔ وہ قدم بہ قدم قوسیں بناتے اور یوں اپنی ہی جانب مڑتے چلے جاتے ہیں۔ معانی کا یہ سفر ہمہ وقت محسوسات کے زیریں آہنگ سے رس کشید کرتا ہے جس کے نتیجے میں ان کی نظمیں جمالیاتی حظ بہم پہنچانے میں بھی کامیاب ہیں۔ یہ بات اکثر دیکھنے میں آئی ہے کہ نظم کی بنت…
Read More"دست برگ” اور ”رن آن لائنز” کا چلن ۔۔۔ ڈاکٹر کالی داس گپتا رضا
مکتوب بنام ستیہ پال آنند ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "دست برگ” اور ”رن آن لائنز” کا چلن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ممبئی ۲۲ ِاپریل ۱۹۹۱ء محبی آنند صاحب! تسلیمات آپ نے مجھ ناچیز کو یاد فرمایا۔ بے حد ممنون ہوں۔ میں ماہرِ عروض نہیں ہوں۔ جو کچھ بھی استادِ محترم ابوالفصاحت پنڈت لبھورام جوش ملسیانی کے قدموں میں بیٹھ کر سیکھا، اسی سے مشقِ سخن ہوئی۔ کمال کرتارپوری بھی میرے بزرگوں میں سے تھے۔ آپ نے ان کا ذکرِ خیر کیا، گویا مجھے میری پرانی زندگی کی یاد دلا دی۔ مجھےتین چار بار آپ سے شرفِ…
Read Moreنقش بر آب ۔۔۔ شاہد فرید
نقش بَر آب ۔۔۔۔۔۔ مَیں نے اِک تصویر بنائی جھیل کے نیلے پانی پر لمحوں کے کنکر نے اس میں جھریاں بھر دیں ہجر کی بارش آئی تو وہ ٹھہر نہ پائی اب مَیں جھیل کنارے بیٹھا گزرے وقت کو ڈھونڈ رہا ہوں محو ِ رقص ہے پانی اور مَیں ڈوبے نقش کو ڈھونڈ رہا ہوں اپنے عکس کو ڈھونڈ رہا ہوں
Read More