ہر چیز ہے محوِ خودنمائی ہر ذرّہ شہید ِکبریائی بے ذوقِ نمود زندگی، موت تعمیرِ خودی میں ہے خدائی رائی، زورِ خودی سے پربت پربت، ضعفِ خودی سے رائی تارے آوارہ و کم آمیز تقدیر ِوجود ہے جدائی یہ پچھلے پہر کا زرد رُو چاند بے راز و نیازِ آشنائی تیری قندیل ہے ترا دِل تو آپ ہے اپنی روشنائی اک تُو ہے کہ حق ہے اِس جہاں میں باقی ہے نمودِ سیمیائی ہیں عقدہ کشا یہ خارِ صحرا کم کر گلۂ برہنہ پائی
Read MoreTag: nazm
مذہب ۔۔۔ علامہ محمد اقبال
مذہب ۔۔۔۔۔۔۔ اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی اُن کی جمعیّت کا ہے مُلک و نَسب پر انحصار قوتِ مذہب سے مستحکم ہے جمعیّت تری دامنِ دیں ہاتھ سے چهوٹا تو جمعیّت کہاں اور جمعیّت ہوئی رخصت تو ملّت بهی گئی
Read Moreترے ہمراہ چلنا ہے ۔۔۔ آصف شفیع
ترے ہمراہ چلنا ہے! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ترے ہمراہ چلنا ہے سفر غم کا زیادہ ہے غموں کی دھول میں لپٹی ہمارے جسم پر لیکن سلگتی جاگتی اور بے ارادہ خواہشوں کا اک لبادہ ہے زمانہ لاکھ روکے مجھ کواس پرہول وادی میں قدم رکھنے سے، لیکن اب پلٹ سکتا نہیں ہرگز کبھی میں اس ارادے سے مجھے معلوم ہے اس راستے پر مشکلیں ہوں گی بگولے وقت کے مجھ کو اُڑا لے جائیں گے ایسے کسی گمنام صحرا میں جہاں ذی روح اشیاء کا وجود اک بے حقیقت استعارے سے زیادہ…
Read Moreتنہا تنہا ۔۔۔ حمایت علی شاعر
تنہا تنہا ۔۔۔۔ میں بہت تھک گیا ہوں یہ کٹھن راستہ مجھ سے اب طے نہ ہو گا یہ تمازت، یہ ویراں خموشی جو ازل سے مری ہم سفر ہے آج زنجیرِ پا بن گئی ہے یہ ہوا جس کے دامن میں بکھری ہوئی خاک ہے ۔۔۔ یا کہ سورج کی جھڑتی ہوئی راکھ ہے۔۔۔ میرے رستے میں دیوار سی بن گئی ہے میں بہت تھک گیا ہوں ایک پتھر کے مانند افتادہ ۔۔۔ چپ چاپ بیٹھا ہوا سوچتا ہوں میرے اطراف ہر چیز ٹھہری ہوئی ہے پیڑ، سورج، پہاڑ…
Read Moreنیلے پہاڑ ۔۔۔ خورسید رضوی
نیلے پہاڑ ۔۔۔۔۔۔ پھر بُلاتے ہیں مجھے نیلے پہاڑ دُور اُفُق پر آسمانوں سے ملے سبز پیڑوں کی قطاروں سے پَرے پا پیادہ گائوں کی جانب رَواں سادہ دِل اَنجان بڑھیا کی طرح بادلوں کی گٹھڑیاں سر پر رکھے پھر بُلاتے ہیں مجھے نیلے پہاڑ جانے کب قدموں کی زنجیریں کٹیں جانے کب رستے کی دیواریں ہٹیں قفل ٹوٹیں حاضر و موجود کے جانے کب بادل کے رَتھ پر بیٹھ کر بجلیوں کے تازیانے مارتا بارشوں کے پانیوں میں بھیگتا مَیں اڑائوں آندھیوں کے راہوار پھر بُلاتے ہیں مجھے نیلے پہاڑ
Read Moreابھی لکھیں تو کیا لکھیں ۔۔۔ محسن نقوی
ابھی لکھیں تو کیا لکھیں ۔۔۔۔۔ ہر اِک جانب اُداسی ہے ابھی سوچیں تو کیا سوچیں؟ ہر اِک سُو، ہُو کا عالم ہے ابھی بولیں تو کیا بولیں؟ ہر اِک اِنسان پتھر ہے ابھی دھڑکیں تو کیا دھڑکیں؟ فضا پر نیند طاری ہے ابھی جاگیں تو کیا جاگیں؟ ہر اِک مقتل کی شہ رَگ میں لہُو کی لہر جاری ہے ابھی دیکھیں تو کیا دیکھیں؟ ہر اِک اِنسان کا سایہ ابھی مٹی پہ بھاری ہے ابھی لکھیں تو کیا لکھیں؟
Read Moreڈیزی کٹر ۔۔۔ غلام حسین ساجد
ڈیزی کٹر ۔۔۔۔ ریت میں ڈھلتے پتھر پانی ہوتی ریت دھند میں چھپتا پانی دھوپ میں جلتی دھند دھوئیں میں گھلتی دھوپ نیند میں بہتا زہر سلگ اٹھے ہیں ایک طلسمی آنچ سے کتنے شہر کون ہے جس نے خواب نگر پر ڈھایا ہے یہ قہر!
Read Moreگم شدہ اذان کے انتظار میں نظم… اسحاق وردگ
گم شدہ اذان کے انتظار میں نظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہر کی قربت میں آباد گائوں (جس کا فطرت سے ازل کا رشتہ ابھی ٹوٹا نہیں) سے آتی ہوئی ضعیف بابا جی کی آواز میں صبح کی اذان کی پہلی گونج شہر کی فضائوں میں جلوہ افروز ہوئی تو زمین کے سینے پر وقت نے کروٹ بدلی باباجی نے جسمانی ضعف کے باوجود اپنی روح سے کشیدکیے گئے طلسم سے سانس کا زیر وبم قائم رکھا اور آنسوئوں کی سوغات میں دل سے لب تک اپنی آواز کو با وضو کیا (تاکہ…
Read Moreاحتمال ۔۔۔۔۔۔ نعیم رضا بھٹی
احتمال ۔۔۔۔ برہنہ خاک کے سارے مناظر فلک کی سرپرستی میں جہانِ دل نشیں مہکا رہے ہیں ہمیں بہلا رہے ہیں مگر احساس غالب ہے کسی خلجان کا پرتو تشدد خیز سی تہذیب کے مانند چہار اطراف پھیلے خوں چکاں منظر ہماری سربریدہ لاش کی جانب کسی کرگس کی صورت بڑھ رہے ہیں ہمارے خون کو خوراک میں تبدیل ہونا ہے
Read Moreباتیں ندیم کی (انٹرویو) ۔۔۔۔۔ حامد یزدانی
باتیں ندیم کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کتاب کبھی نہیں مر سکتی‘‘ (پاکستان کی معتبر ترین ادبی شخصیت جناب احمد ندیم قاسمی نے یہ انٹرویو، اپنی ۸۲ ویں سال گرہ پر ریکارڈ کروایاتھا) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حامد یزدانی: ندیم صاحب! آپ فرماتے ہیں: گو سفر تو دھوپ نگر کا ہے، یہ طلسم حسنِ نظر کا ہے کہیں چھائوں قربِ جمال کی، کہیں فیضِ عشق کے سائے ہیں تو دھوپ چھائوں کے اِس سفر کے 82ویں پڑائو پر، جب احبابِ ندیم آپ کی سالگرہ کا جشن منا رہے ہیں، آپ خود کیا محسوس کر رہے ہیں؟…
Read More