قمر جلالوی ۔۔۔ انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں

انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں وہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیں اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں تو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیں رقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سے تمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیں وہ ہنس کر کہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوے یہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیں نہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی…

Read More

یزدانی جالندھری

برسا ہے ابر پھر بھی کہیں تازگی نہیں جل تھل کے باوجود تپش ہے، نمی نہیں

Read More

ناصر زیدی ۔۔۔ مرزا : میرایار (پروفیسر ڈاکٹر مرزابیگ)

مرزا  :  میرایار (پروفیسر ڈاکٹر مرزابیگ) مرزامیرادوست نہیں،میرا یار ہے۔ مرزایعنی پروفیسر ڈاکٹر مرزاحامد بیگ! جسے میں پیار سے’ ’مرزاقادیان والے‘‘ کہہ کر پکارتا ہوں تو ملکہ ترنم کے گائے ہوئے اس پنجابی گیت کی طرح’’جدوں ہولی جئی لیندا میر اناں،میں تھاں مرجاندی آں‘‘مرزاتھاں نہیں مرجاتا،بلکہ میرے ’’ہولے جئی‘‘ نہیں، پورے زور سے اس لاحقے کے ساتھ پُکارنے پر کھلکھلا کر ہنستاہے اور پھر ہنستا ہی چلا جاتاہے۔ میری طرف سے دیے گئے اس اعزاز کو وہ اس طرح خوش دلی سے قبول کرتا ہے گویا اس کے من کی…

Read More

خالد علیم

دلِ آزردہ بھی کیا خوش نظری رکھتا ہے اپنی ہر رات ستاروں سے بھری رکھتا ہے

Read More

شاہین عباس

گم شدہ شخص تھا سو میں پایا گیا وہیں کہیں خواب کی لو جہاں پڑی، خاک کا رخ جدھر ہوا

Read More

ناصر زیدی ۔۔۔ آہ قمر علی عباسی! چاند پورا ہے، روشنی کم ہے

آہ قمر علی عباسی! چاند پورا ہے، روشنی کم ہے کیسے کیسے نابغہ ٔ روزگار دُنیا سے اُٹھتے جا رہے ہیں اور المیہ یہ ہے کہ چیونٹی کی رفتار سے بھی اُن کے متبادل پیدا نہیں ہو رہے۔ یوں تو کوئی کسی کا متبادل ہو ہی نہیں سکتا، پھر بھی یکم جنوری۲۰۱۳ء سے اب تک کے گزشتہ چھ ماہ کے عرصۂ روزو شب میں بقول ناصر کاظمی: اُٹھ گئے کیسے کیسے پیارے لوگ ہو گئے کیسے کیسے گھر خالی اس دُنیاے فانی سے عالمِ جاودانی کو سدھارجانے والے ادبا، شعرا…

Read More

نعتِ رسولِ مقبولﷺ … ناصر زیدی

نعتِ رسولِ مقبولﷺ نہ مال و زر کی، نہ جاہ و حشم کی خوشبو تھی سوادِ قلب و نظر میں حرم کی خوشبو تھی عجب نشہ تھا کہ خود پر بھی اختیار نہ تھا مشامِ جاں میں وہ جود و کرم کی خوشبو تھی قریب روضۂ اقدس کی جالیاں تھیں مرے عقیدتوں میں بسی چشمِ نم کی خوشبو تھی کِھلا ہُوا تھا چمن ہر طرف مرادوں کا حضورؐ آپ کے ہی دم قدم کی خوشبو تھی جب آپ آئے تو ایمان وہ بھی لے آئے وہ جن کے ذہن میں…

Read More

یزدانی جالندھری

ایک درویشِ جہاں دار ہے یزدانی بھی آپ نے شہر میں اکثر اُسے دیکھا ہو گا

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ جذبوں کو زبان دے ر ہا ہوں

جذبوں کو زبان دے ر ہا ہوں میں وقت کو دان دے رہا ہوں موسم نے شجر پہ لکھ دیا کیا ہر حرف پہ جان دے رہا ہوں یوں ہے نمِ خاک بن کے جیسے فصلوں کو اُٹھان دے رہا ہوں جو جو بھی خمیدہ سر ہیں اُن کے ہاتھوں میں کمان دے رہا ہوں کیسی حدِ جبر ہے یہ جس پر بے وقت اذان دے رہا ہوں اوقات مری یہی ہے ماجد ہاری ہوں, لگان دے رہا ہوں

Read More

سید آل احمد

آنکھیں پیار کی دھوپ سے جھلسی جاتی ہیں روشن ہے اب چہرہ درد کے غازے سے

Read More