جنبشِ ارض و سماوات میں آئے ہوئے ہیں ان دنوں گردشِ حالات میں آئے ہوئے ہیں اب جو تو چاہے، جہاں چاہے ہمیں لے جائے کیا کریں ہم جو ترے ہاتھ میں آئے ہوئے ہیں میں اکیلا ہی نہیں آیا تجھے دیکھنے کو کچھ ستارے بھی مرے ساتھ میں آئے ہوئے ہیں اے مہِ چار دہم تیری خوشی کی خاطر اِک سیہ رات کی بہتات میں آئے ہوئے ہیں میں بھی دن رات یہاں کوزہ گری کرتا ہوں اُس کے سب رنگ مِری ذات میں آئے ہوئے ہیں عشق خود…
Read MoreTag: غزلیں
شناور اسحاق ۔۔۔ نہ مو قلم، نہ پرندے، نہ چشمِ نم مرے بعد
نہ مو قلم، نہ پرندے، نہ چشمِ نم مرے بعد رکھے گا کون ترے باغ میں قدم مرے بعد ہوائے شام! تری بازگشت مجھ تک ہے کرے گا کون مرے رفتگاں کا غم مرے بعد مگر یہ رقص، بغیرِ کمان و تیر و تبر رہے گی شہرِ غزالاں میں رسمِ رَم مرے بعد بہت قدیم سر و کار جائے گا مرے ساتھ پیے گا کون تری بے رخی کا سم مرے بعد جنوں میں صحو، خبر میں حلولِ بے خبری یہ ساز و رخت نہ ہو گا کبھی بہم مرے…
Read Moreمحمد مختار علی ۔۔۔ غزل کو اپنے جنوں سے دراز قد کیے جائیں
غزل کو اپنے جنوں سے دراز قد کیے جائیں ہم اہلِ دِل یونہی آرائشِ خرد کیے جائیں جگر ہو خوں تو عنایت ہو ایک مصرعۂ تر !! سخن عطا ہوں تو پھر کیسے مُسترد کیے جائیں بس ایک شرط پہ میں ہار مان سکتا ہوں مرے خلاف مرے یار نامزد کیے جائیں سو طَے ہوا کہ یہ اعجازِ دستِ قدرت ہے کسی چراغ سے سورج اگر، حسد کیے جائیں کسی لغت سے وہ مفہوم پا نہیں سکتے! جو حرف حلقۂ دانشوراں میں رَد کیے جائیں اور ایک ہم ہیں کہ…
Read Moreقمر رضا شہزاد
مَیں کس طلب میں ہوا ہوں زمین سے بے دخل فلک کے پار مجھے کون سی صدا لائی
Read Moreسعید راجہ ۔۔۔ چراغوں کو بجھایا جا چکا ہے
چراغوں کو بجھایا جا چکا ہے سو اب ہر طاق میں دھوکا دھرا ہے چمن کو سرخ مٹی چاہیے کیا مجھے پھر سے پکارا جا رہا ہے بدن میرا کبھی ایسا نہیں تھا تری قربت میں نیلا پڑ گیا ہے یہ پیشانی کے گھاؤ جانتے ہیں مرا دیوار سے جھگڑا ہوا ہے ابھی تک لوگ کیوں بیٹھے ہوئے ہیں سنا ہے آنے والا جا چکا ہے چلو اس بات کی تصدیق کر لیں مجھے ہنستے ہوئے دیکھا گیا ہے میں کب کا جا چکا ہوتا یہاں سے سعید اس نے…
Read Moreغالب
بقدرِ ظرف ہے ساقی! خمارِ تشنہ کامی بھی جوتو دریائے مے ہے، تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
Read Moreشمشیر حیدر ۔۔۔ تری زمیں نہ ترے آسماں سے باہر ہوں
سجاد بلوچ ۔۔۔ منطقیں لاکھ اُٹھا لائو خرد خانے سے
منطقیں لاکھ اُٹھا لائو خرد خانے سے آئنہ بات سمجھتا نہیں سمجھانے سے ہجرتِ خانہ بدوشاں بھی کوئی ہجرت ہے ہم تو ویرانے میں آئے کسی ویرانے سے زندگی ہم تجھے سانسوں میں گنا کرتے ہیں ماپتے کب ہیں مہ و سال کے پیمانے سے بوکھلا جاتے ہیں تھوڑی سے پریشانی میں کام کچھ اور بگڑ جاتا ہے گھبرانے سے ہجرت و ہجر کا جب باب مکمل ہو گا میرا کردار نکل جائے گا افسانے سے
Read Moreبانی ۔۔۔ ہر طرف سامنا کوتاہ کمالی کا ہے
ہر طرف سامنا کوتاہ کمالی کا ہے عشق اب نام کسی قدرِ زوالی کا ہے شہر کا شہر نمونہ ہے عجب وقتوں کا ایک اک شخص یہاں وضعِ مثالی کا ہے کوئی منظر ہے نہ عکس، اب کوئی خاکہ ہے نہ خواب سامنا آج یہ کس لمحۂ خالی کا ہے آ ملاؤں تجھے اک شخص سے آئینے میں جس کا سر شاہ کا ہے، ہاتھ سوالی کا ہے اب مرے سامنے بانی کوئی رستہ ہے نہ موڑ عکس چاروں طرف اک شہرِ خیالی کا ہے
Read Moreممتاز اطہر … سفر کی دھوپ میں آگے ، سراب سا کچھ ہے
سفر کی دھوپ میں آگے ، سراب سا کچھ ہے چھلک پڑا ہے جو آنکھوں سے ، خواب سا کچھ ہے اسی کو علم ہے اس رات کی طوالت کا وہ جس کے سینے میں اک آفتاب سا کچھ ہے یہ جس مقام پہ لائی ہیں گردشیں ہم کو یہاں قیام تو شاید عذاب سا کچھ ہے میں خود کو ٹھیک سے ، اک بار پھر بناٶں گا میں جانتا ہوں کہ مجھ میں خراب سا کچھ ہے بنا رہا ہے تصاویر سی وہ باتوں کی سو گفتگو میں وہی…
Read More