دل کی طلب کہ جسم کی وحشت سے آئے ہیں آنا پڑا ہے جس بھی رعایت سے آئے ہیں ہم نے کبھی پروں کو منقّش نہیں کیا جتنے بھی رنگ آئے ہیں قدرت سے آئے ہیں سر سے نہ کھینچ سایۂ دیوارِ دلبری اے دھوپ! ہم یہاں بڑی حسرت سے آئے ہیں سو حاجتیں ہیں‘ اب کہاں تفصیل میں پڑیں فی الوقت اور ہی کسی حاجت سے آئے ہیں پھر جشنِ رقص ‘ وہ بھی ہمارے ہی نام پر اور ہم گزر کے کیسی قیامت سے آئے ہیں
Read MoreTag: best urdu poetry
گناہ ۔۔۔ ن ۔ م ۔ راشد
گناہ ۔۔۔ آج پھر آ ہی گیا آج پھر روح پہ وہ چھا ہی گیا دی مرے گھر پہ شکست آ کے مجھے! ہوش آیا تو میں دہلیز پر اُفتادہ تھا خاک آلودہ و افسردہ و غمگین و نزار پارہ پارہ تھے مری روح کے تار آج وہ آ ہی گیا! روزنِ در سے لرزتے ہوئے دیکھا میں نے خرم و شاد سرِ راہ اُسے جاتے ہوئے سالہا سال سے مسدود تھا یارانہ مرا اپنے ہی بادہ سے لبریز تھا پیمانہ مرا اُس کے لَوٹ آنے کا امکان نہ تھا…
Read Moreنعت رسول کریم ﷺ ۔۔۔ خالد علیم
نعت رسولِ کریم ﷺ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ قصرِ شاہ، نہ دربارِ کج کلاہ میں ہے قرارِ جاں مرے آقا ؐ کی بارگاہ میں ہے سرورِ دل وہ کسی اور انجمن میں کہاں جو تاج دارِ ؐ مدینہ کی جلوہ گاہ میں ہے گل و سمن میں نہ مشکِ ختن میں وہ تاثیر جو سرزمینِ مدینہ کی خاکِ راہ میں ہے کہاں ملے گا کسی اور کی نظر سے مجھے نشاطِ جاں کا جو سامان اُن ؐ کی چاہ میں ہے روا نہیں ہے یہاں امتیازِ رنگ و نسب ہر ایک خُرد…
Read Moreالطاف حسین حالی
چپ چپاتے اُسے دے آئے دل اِک بات پہ ہم مال مہنگا نظر آتا تو چکایا جاتا
Read Moreکیا تھا استخارہ، سو گیا تھا ۔۔۔ لیاقت علی عاصم
کیا تھا استخارہ، سو گیا تھا کنارے پر مَیں پیاسا سو گیا تھا مری آنکھوں میں تھا وہ خوابِ راحت مرے قدموں میں رستا سو گیا تھا چٹانوں پر گزاری رات مَیں نے مری کشتی میں دریا سو گیا تھا تھکن کس کی تھی، کس کو نیند آئی مرے سینے پہ صحرا سو گیا تھا مَیں اُس دن فرش پر سویا سکوں سے مرے بستر پہ بیٹا سو گیا تھا یہ بستی رات بھر جاگی تھی اُس دن کہانی کہنے والا سو گیا تھا سبھی کے چاند تھے بے دار…
Read Moreانہدام ۔۔۔ خالد احمد
انہدام ۔۔۔۔۔ یہ میری دیمک لگی کتابیں یہ نینوا کی اجل شکستہ گِلی کتابوں کی داستانیں یہ عہد نامے، یہ کِرمِ تحریف سے لدی، بھربھری کتابیں پیمبرانِ خدا کے ’ناقض۔سند‘ قصص، انحراف آمادہ اُمتوں کی کہانیاں ہیں ورق ورق فلسفوں کی مربوط داستانیں یہ عقل و دانش بھری کتابیں تمام الحاد و زندقہ ہیں مرے زمانے کی روشنی کے لیے نہیں ہیں یہ مشرقی اور مغربی حسن کار ذہنوں کی سعیِ پیہم کی داستانیں مرے زمانے کی تیرگی کے لیے نہیں ہیں یہ حرفِ غم، میری روح کا ایک دائمی…
Read Moreیوں ذہن میں جمالِ رسالت سما گیا ۔۔۔ حفیظ تائب
یوں ذہن میں جمالِ رسالت سما گیا میرا جہانِ فکر و نظر جگمگا گیا خلُقِ عظیم و اسوہء کامل حضورﷺ کا آدابِ زیست سارے جہاں کو سکھا گیا اُس کے قدم سے پھوٹ پڑا چشمہء بہار وہ دشتِ زندگی کو گلستاں بنا گیا انوارِ حق سے جس نے بھرا دامنِ حیات جو نکہتِ وفا سے زمانے بسا گیا رہ جائے گا بھرم مرے حرفِ نیاز کا اُس بارگاہِ ناز میں گر بار پا گیا کتنا بڑا کرم ہے کہ تائب سا بے ہنر توصیفِ مصطفٰےﷺ کے لیے چن لیا گی…
Read Moreرحمان حفیظ
خدا کرے کہ مِرا بس چلے عناصر پر میں اور وقت بناؤں تری گھڑی کے لیے
Read Moreاچھی گزر رہی ہے دلِ خود کفیل سے ۔۔۔ احمد جاوید
اچھی گزر رہی ہے دلِ خود کفیل سے لنگر سے روٹی لیتے ہیں، پانی سبیل سے دنیا کا کوئی داغ مرے دل کو کیا لگے مانگا نہ اک درم بھی کبھی اس بخیل سے کیا بوریا نشیں کو ہوس تاج و تخت کی کیا خاک آشنا کو غرض اسپ و فیل سے دل کی طرف سے ہم کبھی غافل نہیں رہے کرتے ہیں پاسبانئ شہر اس فصیل سے گہوارہ سفر میں کھلی ہے ہماری آنکھ تعمیر اپنے گھر کی ہوئی سنگِ میل سے اک شخص بادشاہ تو اک شخص ہے…
Read Moreجدلیاتی خواب ۔۔۔ الیاس بابر اعوان
جدلیاتی خواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جمالِ رفتہ پہ گردِ وحشت پڑی ہوئی ہے گھنے درختوں کی جن قطارں پہ نیم خندہ تھا لَو کا موسم سنا ہے پتے گرارہی ہیں ندی کے ٹھٹھرے ہوئےبدن پر ندی کا کیا ہے! شکوہِ دامن سے لمس زندہ ، بہار قائم لہو کی تہذیب کے منافی کبھی ہُوا ہے! یہ آبناے فروغِ ابہام دیکھتے ہیں کہاں پہ جائے کہاں پہ ٹھہریں بصارتوں کے چنیدہ قصے جنھیں بہایا گیا تھا اچھے گماں کی خاطر ندی کے پانی کی طشتری میں ذرا یہ دیکھو سجیل پتھر کہ جیسے…
Read More