اختیاراتِ محبت کو سمجھتا ہوں میں آپ بے وجہ بھی کر سکتے ہیں برباد مجھے
Read MoreCategory: الف
عرش ملسیانی
اے مرے ضبط کو کامل نہ سمجھنے والے! قابلِ داد مری کوششِ فریاد بھی ہے
Read Moreچکبست برج نرائن
اک سلسلہ ہوس کا ہے انساں کی زندگی اس ایک مشت خاک کو غم دو جہاں کے ہیں
Read Moreخالد علیم
اب آنکھ میں کوئی آنسو‘ کوئی ستارہ نہیں کچھ ایسے ٹوٹ کے روئے ترے وصال میں ہم
Read Moreاحمد ندیم قاسمی
اک بار بگڑ کر جو تری بزم سے اٹھوں پھر آ کے ترے پاس نہ لوں اپنی خبر تک
Read Moreجلیل مانک پوری
اپنی آنکھیں نظر آتی ہیں جو اچھی ان کو جانتے ہیں مرے بیمار کا حال اچھا ہے
Read Moreمحسن اسرار
اسے بھی میں نے بہت خود پہ اختیار دیے اور اس طرح کہ بہت خود پہ اختیار رکھا
Read Moreقابل اجمیری
احباب کے فریبِ مسلسل کے باوجود کھنچتا ہے دل خلوص کی آواز پر ابھی
Read Moreاعجاز عبید ۔۔۔ وہ جسے سن سکے وہ صدا مانگ لوں
وہ جسے سن سکے وہ صدا مانگ لوں جاگنے کی ہے شب کچھ دعا مانگ لوں اس مرض کی تو شاید دوا ہی نہیں دے رہا ہے وہ، دل کی شفا مانگ لوں عفو ہوتے ہوں آزار سے گر گناہ میں بھی رسوائی کی کچھ جزا مانگ لوں شاید اس بار اس سے ملاقات ہو بارے اب سچے دل سے دعا مانگ لوں یہ خزانہ لٹانے کو آیا ہوں میں اس کو ڈر ہے کہ اب جانے کیا مانگ لوں اب کوئی تیر تر کش میں باقی نہیں اپنے رب…
Read Moreمرزا اسداللہ خاں غالب ۔۔۔ غزل
بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا رکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا اِس تکلف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب آستیں میں دشنہ پنہاں ، ہاتھ میں نشتر کھلا گو نہ سمجھوں اس کی باتیں ، گونہ پاؤں اس کا بھید پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا ہے خیالِ حُسن میں حُسنِ عمل کا سا خیال خلد کا اک در ہے میری گور کے…
Read More