اوٹ میں آ گیا اُس کا ہم رقص تو مَیں دِکھائی دیا ضم ہُوا آئنے میں مِرا عکس تو مَیں دِکھائی دیا مجھ سے غافل تھا کیوں کہ مکمّل تھا مَیں اور اکمل تھا مَیں اور ظاہر ہُوا جب مِرا نقص تو مَیں دِکھائی دیا میری پہچان پر کوئی قدغن نہ تھی پھر بھی ممکن نہ تھی جب الگ ہو گیا مجھ سے ہر شخص تو مَیں دِکھائی دیا بے ضرر جان کر مجھ سے غافل تھا وہ، کیسا عامل تھا وہ کچھ ہُوا جب توقّع کے برعکس تو مَیں…
Read MoreTag: اردو غزل
غلام حسین ساجد ۔۔۔ کیسا حرف گر ہوں مَیں، بات میں اثر نہیں
کیسا حرف گر ہوں مَیں، بات میں اثر نہیں خواب کا اسیر ہوں، نیند کی خبر نہیں حق کی بات کہتا ہوں اور مزے میں رہتا ہوں اب تو کوئی غم نہیں، اب تو کوئی ڈر نہیں آپ کا اسیر ہوں، آپ کا سفیر ہوں بات مختصر سی ہے اور مختصر نہیں کس کی خواب گہ ہے یہ، کون سی جگہ ہے یہ سر پہ آسماں نہیں، دامِ بحر و بر نہیں سب سے بدگمان تھا جب مجھے گمان تھا مجھ سا دوسرا کوئی فرشِ خاک پر نہیں جانتے نہیں…
Read Moreغلام حسین ساجد ۔۔۔ دریدہ دل کبھی باچشمِ نم نکلتا ہُوں
دریدہ دل کبھی باچشمِ نم نکلتا ہُوں مَیں اپنی ذات کے حجرے سے کم نکلتا ہُوں دیارِ ہند سے باغِ عدن کو جاتا ہُوں کبھی حجاز سے سوئے عجم نکلتا ہُوں سحر کو کھینچ کے لاتا ہُوں اِس خرابے میں مَیں آج رات ترے ہم قدم نکلتا ہُوں ازل کی کوئی ضرورت نہ اب ابد سے لاگ مَیں اب کی بار ورائے عدم نکلتا ہُوں بکھرتا رہتا ہُوں شب بھر مگر بوقتِ سحَر سمیٹ لیتا ہُوں خود کو، بہم نکلتا ہُوں اِسی لیے تو تری روشنی میں رہتا ہُوں مَیں…
Read Moreسید آل احمد
تم جو میری بات سنے بن چل دیتے رات لپٹ کر رو دیتا دروازے سے
Read Moreمحسن اسرار
گھر میں رہنا مرا گویا اُسے منظور نہیں جب بھی آتا ہے نیا کام بتا جاتا ہے
Read Moreغلام حسین ساجد ۔۔۔ حاصل کسی سے نقدِ حمایت نہ کر سکا
حاصل کسی سے نقدِ حمایت نہ کر سکا میں اپنی سلطنت پہ حکومت نہ کر سکا ہر رنگ میں رقیبِ زرِ نام و ننگ ہوں اک میں ہوں جو کسی سے محبت نہ کر سکا گھلتا رہا ہے میری رگوں میں بھی کوئی زہر لیکن میں اِس دیار سے ہجرت نہ کر سکا پڑ تا نہیں کسی کے بچھڑ نے سے کوئی فرق میں اُس کو سچ بتانے کی زحمت نہ کر سکا آیا جو اُس کا ذکر تو میں گنگ رہ گیا اور آئنے سے اُس کی شکایت نہ…
Read Moreعطاء الرحمٰن قاضی ۔۔۔ ملا ہی دے گی کبھی موجِ التباس کہیں
ملا ہی دے گی کبھی موجِ التباس کہیں بھٹک رہا ہوں میں اپنے ہی آس پاس کہیں ہواے غم میں نہ ڈھل جائے ، یہ ہواے نشاط کشید کرتے ہوئے ان گُلوں کی باس کہیں بھروں سراب کے دریا میں رنگِ آبِ رواں اتار لوں رگِ جاں میں اگر یہ پیاس کہیں گریز کر مگر اتنا بھی کیا گریز، بھلا کہ آ نہ جائے ترا ہجر ہم کو راس کہیں دلِ شکستہ کے آثار دیدنی ہیں عطا پڑ ے ہیں خواب کہیں تو اگی ہے گھاس کہیں
Read Moreارشد شاہین ۔۔۔ حرف حرف سطر سطر باب باب لکھ دیا
غزل حرف حرف سطر سطر باب باب لکھ دیا اُس کے نام زندگی کا انتساب لکھ دیا پوچھتا تھا مجھ سے وہ حصولِ زندگی ہے کیا اشک آنکھ سے گرے ، زمیں پہ خواب لکھ دیا اُس کی جب مثال دی تو سامنے کی بات کی چاند کہہ دیا کبھی، کبھی گلاب لکھ دیا جس قدر وہ ہے اُسے بیاں کیا اُسی قدر کب ہوا کہ میں نے اُس کو بے حساب لکھ دیا یوں کرم کیا ہے مجھ پہ ربِ کائنات نے سوچنے سے قبل مجھ کو کامیاب لکھ…
Read Moreیزدانی جالندھری
بیٹھے بٹھائے دل کو یہ کیا ہو گیا ہے آج کہتا ہے بار بار، ہوا سامنے کی ہے
Read Moreسعید دوشی ۔۔۔ کوکھ جلا سیارہ
کوکھ جلا سیارہ یہ سیارہ جو بالکل بیضوی کشکول جیسا ہے گلوبی گردشیں ساری ہمیشہ سے اسی کے گرد گھومی ہیں جو مقناطیس، مقناطیسیت سے ہاتھ دھو بیٹھیں تو پھر کمپاس کیا سمتیں بتائیں یہاں دل ہی نہیں گھٹتا بدن کا وزن بھی تفریق در تفریق ہوتا مثبتوں سے منفیوں کے دائروں میں گھومتا محسوس ہوتا ہے مسلسل گردشوں پر گر کوئی نظریں جمائے گا تو پھر چکر تو آئیں گے یہاں املی نہیں ملتی فقط ناپید جیون ہی کے کچھ آثار ملتے ہیں گہر ہونے کی خواہش میں برسنے…
Read More