کتنے سموں کے شعلوں پر اک خواب جلے کتنی یادیں سر پھوڑیں دروازے سے
Read MoreTag: غزل
حفیظ جونپوری ۔۔۔ ہائے اب کون لگی دل کی بجھانے آئے
ہائے اب کون لگی دل کی بجھانے آئے جن سے امید تھی اور آگ لگانے آئے درد مندوں کی یوں ہی کرتے ہیں ہمدردی لوگ خوب ہنس ہنس کے ہمیں آپ رلانے آئے خط میں لکھتے ہیں کہ فرصت نہیں آنے کی ہمیں اس کا مطلب تو یہ ہے کوئی منانے آئے آنکھ نیچی نہ ہوئی بزمِ عدو میں جا کر یہ ڈھٹائی کہ نظر ہم سے ملانے آئے طعنے بے صبر یوں کے ہائے تشفی کے عوض اور دکھتے ہوئے دل کو وہ دکھانے آئے اور تو سب کے…
Read Moreمحسن احسان
مری سماعت و بینائی چھیننے والے میں سن بھی سکتا ہوں مجھ کو نظر بھی آتا ہے
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ میرے قدموں تلےہے نیا راستہ، میں اکیلا نہیں
میرے قدموں تلےہے نیا راستہ، میں اکیلا نہیں آندھیوں سے کہیں تیز تر اے ہَوا، میں اکیلا نہیں عکس تو خیر ہے شیشۂ ساعت ِ بے خبر میں کہیں میری تنہائی بھی ہے مرا آئنہ، میں اکیلا نہیں چاند بھی ہے مری صبح پُرنور کا منتظر شام سے اے غنیمِ شب ِ ابتدا دیکھنا، میں اکیلا نہیں یہ زمیں جس کی ہے، اس پہ میرے قدم رُکنے والے نہیں وہ، مرے ساتھ ہے دُور تک راستہ، میں اکیلا نہیں میرے اشعار ہی میرے ہم راز ہیں، میرے دم ساز ہیں…
Read Moreاشرف کمال ۔۔۔ میرے لفظوں کو وہ اظہار میسر آئے (ماہنامہ بیاض مارچ 2022)
میرے لفظوں کو وہ اظہار میسر آئے میری خوشبو مرے دشمن کو بھی چھوکر آئے کاش ایسا بھی کوئی آنکھ میں منظر آئے چاند بڑھ کر ترے سائے کے برابر آئے میرے اندر کے نہ توڑے درودیوار ابھی درد سے کہ دو مری آنکھ سے باہر آئے ایک میں ہوں کہ مرے ہاتھ ہیں خالی اب تک ایک تو ہے کہ ترے ہاتھ سمندر آئے کوئی دشمن مرے معیار پہ اترا ہی نہیں مجھ سے لڑنے کے لیے کوئی سکندر آئے کچھ تو نیچے ہوں امیروں کے فلک بوس مکان…
Read Moreصغیر احمد صغیر ۔۔۔ کبھی تو دیکھو گے ان کی لالی جناب عالی (ماہنامہ بیاض مارچ 2022)
کبھی تو دیکھو گے ان کی لالی جناب عالی ہماری آنکھیں جو ہیں سوالی جناب عالی اب اور کیسا بنائیں خود کو جو بھائیں تم کو کہ اب تو ہم نے انا بھی ڈھا لی جناب عالی عجب قرینہ، عجب مہارت ہے گفتگو میں جو اتنا اچھے سے بات ٹالی جناب عالی ہمارا بچپن کا یار تھا جو، وہ چاہتا ہے ہم اس کو بولیں جناب عالی، جناب عالی تمہاری ضد ہے تو نام بھی اب کے لیں تو کہنا لو آج ہم نے قسم اٹھا لی جناب عالی وہ…
Read Moreنجیب احمد
میں تو گھر سے کبھی نہیں نکلا کس کا نقشِ قدم ہے چار طرف
Read Moreقابل اجمیری
زمانہ کھیل رہا ہے تمہاری زلفوں سے ہمارے حالِ پریشاں کی بات کون کرے
Read Moreمرزا غالب
بات پر واں زبان کٹتی ہے وہ کہیں اور سنا کرے کوئی
Read More