اسی لیے ترے دعووں پہ مسکرا رہے ہیںہم اپنا ہاتھ تری پشت سے اٹھا رہے ہیں وہ خود کہاں ہے جو نغمہ سرا ہے صدیوں سےیہ کون ہیں جو فقط اپنے لب ہلا رہے ہیں ہوئے ہیں دیر سے ہموار زندگی کے لیےضرور ہم کسی لشکر کا راستہ رہے ہیں ابھی کسی کی خوشی میں شریک ہونا ہےابھی کسی کے جنازے سے ہو کے آ رہے ہیں بس اپنی خوش نظری کا بھرم رکھا ہوا ہےشکستہ آئنے ترتیب سے لگا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کس کس سے کر کے اس کو…
Read MoreTag: best poems
تنہائی سے آگے ۔۔۔ خلیل الرحمن اعظمی
تنہائی سے آگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہ سب بحثیں جو گھس پِٹ کے پرانی ہو جائیںجب کوئی رس نہ ہو دہرائی ہوئی باتوں میںمضمحل روحیں خموشی کا سہارا ڈھونڈھیںجب کوئی لطف نہ رہ جاۓ ملاقاتوں میں جب نہ محسوس ہو کچھ گرمئ آداب و سلامجی نہ چاہے کہ کوئی پرسشِ احوال کرےدور تک پھیلی ہوئی دھند ہو، سنّاٹے ہوں سب کے سب بیٹھے ہوں اور کوئی نہ ہو کچھ نہ رہے ان خلاؤں سے نکل کر کہیں پرواز کریںآؤ کچھ سیر کریں ذہن کی پہنائی میں!کیوں نہ دریافت کریں ایسی گزر گاہوں کوبات…
Read Moreتابِ سخن تمام ۔۔۔ خالد احمد
تابِ سخن تمام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کس رُخ کروں قصیدۂ شاہِ زَمن تمام تشیب ہی میں ہو گئی تابِ سخن تمام اے کاروانِ خاک و خل و خار و خس! سنبھلمحمل کے ساتھ ساتھ ہیں گُل پیرہن تمام گُل کِھل رہے ہیں کھلتے سُروں کی اٹھان سےنقشِ قدم ہیں یاسمن و نسترن تمام آئینۂ نگاہ میں اُترا وہ آئنہ آئینہ لاخ ہو گئے رُوئینہ تن تمام ہر لفظ چاہتا ہے کہ اُس ذکر میں ڈھلے دَر پر ہیں دست بستہ بتانِ سخن تمام مدّاح کارِ مدح سے غافل نہیں ہوئے تارِ نفس کے ساتھ…
Read Moreنعتِ رسولِ مقبول ؐ ۔۔۔۔ محمد افضال انجم
نعتِ رسولِ مقبول ؐ قلم کو مدحتِ خیرالانامؐ چاہیے ہے اسی میں قلب و نظر کو مقام چاہیے ہے خطاے عمر ِگزشتہ معاف ہو جائے درِ حضورؐ پہ وہ اہتمام چاہیے ہے طواف ِگنبد اخضر نگاہ کرتی رہے مجھے مدینہ میں ایسا مقام چاہیے ہے کبھی میں پیشِ رسالت مآبؐ ہو جائوں شمار انؐ کے غلاموں میں نام چاہیے ہے زبان ذکر کرے سرورِ دو عالمؐ کا یہی وظیفہ مجھے صبح شام چاہیے ہے وہ جن کے پائوں کی ٹھوکر پہ کہکشایئں ہیں مجھے تو انؐ پہ درود و سلام…
Read Moreسلام بحضور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ … سعید راجہ
پہلے پہل عجب لگی ہجرت حسین کی پھر مجھ کو یاد آ گئی نسبت حسین کی تھا اذن بھی, چراغ بھی گل کر دیئے گئے چھوڑی نہیں کسی نے رفاقت حسین کی کردار شرطِ خاص ہے انکار کیلئے اس کی کھری مثال ہے سیرت حسین کی کربل کی سرخ ریت پہ سجدہ ادا کیا بے مثل ہو گئی ہے عبادت حسین کی آنکھیں تو ہیں نگاہِ بصیرت کوئی نہیں کھلتی کسی پہ خاک حقیقت حسین کی ہر اک لہو کی بوند پہ لکھا ہے ان کا نام روشن ہے میرے…
Read Moreرانا سعید دوشی ۔۔۔ اہتمام
اہتمام ۔۔۔۔۔ جمالے! او جمالے! وہ بھوری بھینس جس نے مولوی کو سینگ مارا تھا گلی سے کھول کر ڈیرے پہ لے جا شکورے! بھینس کی کھُرلی کو رستے سے ہٹا دے پھاوڑے سے سارا گوھیا میل کے کھیتوں میں لے جا نذیراں! جا ذرا ویہڑے میں بھی جھاڑو لگا دے سُن! یہ ساری چھانگ بیری کی اُٹھا لے جا جلا لینا، غلامے یار! یہ ۔۔۔ کیکر کے کنڈے ۔۔۔۔ چھوڑ ۔۔۔ میں خود ہی اُٹھا لوں گا تُو ایسا کر ۔۔۔ حویلی میں جو ”موتی“ اور ”ڈبُّو“ پھر رہے…
Read Moreعزیز فیصل … سلام
سلام۔۔۔یزید سے ہیں مفادات اس کے وابستہسو اس نے چھوڑ دیا اہلِ بیت کا رستہنہیں ہے مسئلہ اس کا نبی و آل ِنبیکہ فرقہ باز کو درکار ہے فسوں سستارسول ِخیر سے نسبت نہیں ہے نسبت ِعامستم شعار! بہت ہے ترا یقیں خستہجو ریگزار میں آباد کر گئے تھے حسینوہ ایک شہر دلوں میں ہے آج بھی بستااِدھر تھے ابن ِعلی کے فقط بہتر لوگاُدھر تھا جبرو ستم کی سپاہ کا دستہ
Read Moreجلیل عالی…. سلام
سلام……بندگانِ ریا کی نگاہوں میں شام و سحر اور تھےاور اہلِ صفا کے رموزِ قیام و سفر اور تھےچاند پیشانیوں پر فروزاں تھا جو فیصلہ ، اور تھاچور چہروں پہ ٹھہرے ہوئے تھے جو اندر کے ڈر ، اور تھےسب جبینیں وہاں رات دن تھیں زمیں بوسیوں میں مگنکٹ کے کچھ اور اوپر اٹھے تھے مگر وہ جو سر،اور تھےگو رہِ عشق میں شان پہلے بھی بے مثل تھی آپ کیکربلا میں مگر سُرخرو تھے سوا ، معتبر اور تھےسطحِ صحرا پہ عالی کہاں کوئی تحریر ٹھہری کبھیلفظ لیکن لہو…
Read Moreخالد علیم ۔۔۔۔سلام بہ کربلا
سلام بہ کربلا اے فلکِ کربلا ، تشنہ لب و تشنہ کام دیکھ سرِ دشت ہے سبطِ رسولِ انامؐ قافلۂ صدق کا شاہ سوارِ عظیم راحلۂ صبر کا راہ برِ خوش خرام دیکھ تری خاک پر کس کا گرا ہے لہو کس نے لٹایا ہے گھر، کس کے جلے ہیں خیام اے نگہِ دشتِ شام! دیکھ ذرا غور سے اپنے شہیدوں کا خوں، اپنے اسیروں کی شام کس نے بتایا تجھے، کس نے دکھایا تجھے کذب بیانوں پہ ہے کارِ شجاعت حرام سبطِؓ نبی ؐ کے سوا، ابنِ علیؓ کے…
Read Moreرخسانہ صبا ۔۔۔ تخلیق
تخلیق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کمرے کا یخ بستہ موسم میرے اندر کی گرمی کو چاٹ چکا تھا آنکھوں کی جھیلوں میں گویا بچھڑی ہوئی یادوں کی کائی جمی ہوئی تھی بستر پر اک بے حس اور انجانی سی چپ گرد کی صورت پڑی ہوئی تھی روح کے آنگن میں پیڑوں کی سوکھی شاخیں دھند میں گم تھیں اور خیالوں کے سرچشمے خشک پڑے تھے ایسے میں اک دستک ابھری کھڑکی کے پٹ کھول کے میں نے باہر دیکھا درد اچانک جاگ اٹھا تھا ایک سنہرے اور تازہ احساس کا آنچل سر پر…
Read More