ابتدائے عشق ہے، لطف شباب آنے کو ہے صبر رخصت ہو رہا ہے، اضطراب آنے کو ہے قبر پر کس شان سے وہ بے نقاب آنے کو ہے آفتاب صبح محشر ہم رکاب آنے کو ہے مجھ تک اس محفل میں پھر جام شراب آنے کو ہے عمر رفتہ پلٹی آتی ہے، شباب آنے کو ہے ہائے کیسی کشمکش ہے یاس بھی ہے آس بھی دم نکل جانے کو ہے، خط کا جواب آنے کو ہے خط کے پرزے نامہ بر کی لاش کے ہم راہ ہیں کس ڈھٹائی سے…
Read MoreTag: poetry community
قابل اجمیری
احباب کے فریبِ مسلسل کے باوجود کھنچتا ہے دل خلوص کی آواز پر ابھی
Read Moreہاجر دہلوی … جب کسی کا خیال آتا ہے
جب کسی کا خیال آتا ہے دل میں غم کا ابال آتا ہے یوں ہی فرقت میں عمر گزرے گی کب پیامِ وصال آتا ہے آپ باتوں میں ٹال دیتے ہیں وصل کا جب سوال آتا ہے کل جسے بزم سے نکالا تھا پھر وہی خستہ حال آتا ہے پھیکا پھیکا ہے چاند گردوں پر کون رشکِ ہلال آتا ہے ہائے اس بت نے بے وفائی کی صرف اتنا خیال آتا ہے دل لگی کے سوا تجھے‘ ہاجر! اور بھی کچھ کمال آتا ہے
Read Moreنظام رامپوری … انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ
انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ دیکھا جو مجھ کو چھوڑ دیے مسکرا کے ہاتھ بے ساختہ نگاہیں جو آپس میں مل گئیں کیا منہ پر اس نے رکھ لیے آنکھیں چرا کے ہاتھ یہ بھی نیا ستم ہے حنا تو لگائیں غیر اور اس کی داد چاہیں وہ مجھ کو دکھا کے ہاتھ بے اختیار ہو کے جو میں پاؤں پر گرا ٹھوڑی کے نیچے اس نے دھرا مسکرا کے ہاتھ گر دل کو بس میں پائیں تو ناصح تری سنیں اپنی تو مرگ و زیست…
Read Moreاحمد فراز
کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ
Read Moreشکیل بدایونی
کوشش تو بہت کی ہم نے مگر پایا نہ غمِ ہستی سے مفر ویرانئ دل جب حد سے بڑھی گھبرا کے محبت کر بیٹھے
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ ہوئے عشق میں امتحاں کیسے کیسے
ہوئے عشق میں امتحاں کیسے کیسے پڑے مرحلے درمیاں کیسے کیسے رہے دل میں وہم و گماں کیسے کیسے سَرا میں ٹِکے کارواں کیسے کیسے گھر اپنا غم و درد سمجھے ہیں دل کو بنے میزباں‘ میہماں کیسے کیسے شبِ ہجر باتیں ہیں دیوار و در سے ملے ہیں مجھے رازداں کیسے کیسے دکھاتا ہے دن رات آنکھوں کو میری سیاہ و سفید آسماں کیسے کیسے جو کعبے سے نکلے‘ جگہ دیر میں کی ملے ان بتوں کو مکاں کیسے کیسے فرشتے بھی گھائل ہیں تیرِ ادا کے نشانہ ہوئے…
Read Moreنعت رسول پال صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔ محمد انیس انصاری
نعتؐ کٹ جائے گی جیون کی سِیہ رات کسی دن ہو جائے گی آقاؐ سے ملاقات کسی دن آئے گا مدینے سے ہوا کا کوئی جھونکا مہکیں گے دل و جاں کے مضافات کسی دن کاسہ لیے بیٹھے ہیں مدینے کے گداگر بانٹیں گے فقیروں میں وہ خیرات کسی دن آنکھوں میں سما جائے گا وہ چہرۂ انور بن جائے گی ہم ایسوں کی بھی بات کسی دن روئیں گے کبھی سینۂ اقدس سے لپٹ کر برسے گی عجب ڈھنگ سے برسات کسی دن آقاؐ کی محبت مری مٹی میں…
Read Moreرضا اللہ حیدر ۔۔۔ سلام
سلام میدانِ کربلا میں جو پیاسا حسین ہے دشمن کئی ہزار ہیں تنہا حسین ہے دو پھول خوش اصول ہیں باغِ رسولؐ کے اک خوش ادا حسن ہے تو دوجا حسین ہے اے خاکِ کربلا ترے ذروں کو چوم لوں تجھ پہ وطن سے دوری میں ، تڑپا حسین ہے میرا ہے یہ عقیدہ ، کہوں گا میں برملا سارے عدو ہی جھوٹے ہیں سچا حسین ہے خلدِ بریں میں شان ہے کیا شان آپ کی سب جنتی براتی ہیں دولھا حسین ہے چشمِ فلک تو دیکھ ، ہے زندہ…
Read Moreمحمد اشفاق بیگ ۔۔۔ سلام
سلام غمِ شبیر ہر غم سے سوا ہے یہ غم دراصل ہر غم کی دوا ہے لکھوں کیسے مصائب کربلا کے نہیں یہ کربلا ، کرب و بلا ہے وہ سجدہ لاکھ سجدوں سے ہے بڑھ کر جو تلواروں کے سائے میں کیا ہے یزیدیت سراسر کفر و باطل حسینیت تو بس صبر و رضا ہے انوکھا ہے یہ اندازِ حضوری کہ سر کٹ کر بھی سجدے میں پڑا ہے وہ جنت میں جوانوں کے ہیں سلطاں مرے آقا محمد نے کہا ہے جو ہو محبوب‘ محبوبِ خدا کو وہی…
Read More