باتیں ندیم کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کتاب کبھی نہیں مر سکتی‘‘ (پاکستان کی معتبر ترین ادبی شخصیت جناب احمد ندیم قاسمی نے یہ انٹرویو، اپنی ۸۲ ویں سال گرہ پر ریکارڈ کروایاتھا) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حامد یزدانی: ندیم صاحب! آپ فرماتے ہیں: گو سفر تو دھوپ نگر کا ہے، یہ طلسم حسنِ نظر کا ہے کہیں چھائوں قربِ جمال کی، کہیں فیضِ عشق کے سائے ہیں تو دھوپ چھائوں کے اِس سفر کے 82ویں پڑائو پر، جب احبابِ ندیم آپ کی سالگرہ کا جشن منا رہے ہیں، آپ خود کیا محسوس کر رہے ہیں؟…
Read MoreTag: اردو کی بہترین شاعری
اختر حسین جعفری
کیا مکاں خوردہ خلائق میں چلے اس کا خیال تنگ نائے شہر! کچھ رستہ نکال اس کے لیے
Read Moreاختر حسین جعفری ۔۔۔ ہجر اک حسن ہے، اس حسن میں رہنا اچھا
ہجر اک حسن ہے، اس حسن میں رہنا اچھا چشمِ بے خواب کو خونناب کا گہنا اچھا کوئی تشبیہ کا خورشید نہ تلمیح کا چاند سرِ قرطاس لگا حرفِ پرہنہ اچھا پار اُترنے میں بھی اک صورتِ غرقابی ہے کشتئ خواب رہِ موج پہ بہنا اچھا یوں نشیمن نہیں ہر روز اٹھائے جاتے اسی گلشن میں اسی ڈال پہ رہنا اچھا بے دلی شرطِ وفا ٹھہری ہے معیار تو دیکھ میں بُرا اور مرا رنج نہ سہنا اچھا دھوپ اُس حسن کی یک لحظہ میسر تو ہوئی پھر نہ تا…
Read Moreنظم ۔۔۔۔ اختر حسین جعفری
نظم ۔۔۔۔ شام ڈھلے تو میلوں پھیلی خوشبو خوشبو گھاس میں رستے آپ بھٹکنے لگتے ہیں زلف کھلے تو مانگ کا صندل شوق طلب میں آپ سلگنے لگتا ہے شام ڈھلے تو زلف کھلے تو لفظوں! ان رستوں پر جگنو بن کر اڑنا راہ دکھانا دن نکلے تو تازہ دھوپ کی چمکیلی پوشاک پہن کر میرے ساتھ گلی کوچوں میں لفظوں! منزل منزل چلنا ہم دنیا کو حرف و صدا کی روشن شکلیں پھول سے تازہ عہد اور پیماں دکھلائیں گے دیواروں سے گلزاروں تک تنہائی کی فصل اگی ہے…
Read Moreراغب مراد آبادی (چند جہتیں): اکرم کنجاہی ۔۔۔ نوید صادق
میرا پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔ راغب مراد آبادی (چند جہتیں) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اکرم کنجاہی سے خوش گوار تعارف ان کی شاعری اور ماہ نامہ غنیمت کے حوالہ سے توایک عرصہ سے ہے ، ان کے کچھ مضامین بھی زیرِمطالعہ رہے لیکن راغب صاحب پر ان کی یہ تصنیف میرے علم میں نہ تھی۔ اس کا پہلا ایڈیشن فروری ۲۰۰۱ء میں شائع ہوا اور اب دوسرا ایڈیشن جنوری ۲۰۲۰ء میں رنگِ ادب پبلی کیشنز ، کراچی سے اشاعت پذیر ہواہے۔ اکرم کنجاہی نے ’عرضِ مصنف‘ میں اس کتاب کو راغب شناسی کے حوالہ سے…
Read Moreارشد عباس ذکی ۔۔۔ خزاں کی رت میں شجر سبز ہونے والا نہیں
خزاں کی رُت میں شجر سبز ہونے والا نہیں جو راکھ ہو گیا گھر، سبز ہونے والا نہیں بھلے تو خونِ جگر دے وفا کے پودے کو یہ بات طے ہے کہ سرسبز ہونے والا نہیں یقین ٹوٹ گیا ہے، بھروسہ ختم ہوا یہ برگ بارِ دگر سبز ہونے والا نہیں یہ کوے یوں بھی درختوں سے بغض رکھتے ہیں کہ ان کا ایک بھی پر سبز ہونے والا نہیں گھرا ہوا ہوں درختوں میں اور جانتا ہوں میں ان کے زیرِ اثر سبز ہونے والا نہیں میں اپنے اشک…
Read Moreفہمیدہ ریاض
پھر ہم ہیں، نیم شب ہے، اندیشہء عبث ہے وہ واہمہ کہ جس سے تیرا یقین آیا
Read Moreنعمان فاروق ۔۔۔۔۔ جانے کیا بات بتانے مجھ کو
جانے کیا بات بتانے مجھ کو دھوپ آئی ہے جگانے مجھ کو اب ذرا ہانٹ نہیں کرتے ہیں تیری چاہت کے فسانے مجھ کو جانے کیا یاد دلانے آئے تیری چاہت کے زمانے مجھ کو آئو پانی سے گلے ملتے ہیں پیاس آئی ہے بلانے مجھ کو ہجر کی رُت چلی آئی نعمان تیری چوکھٹ سے اٹھانے مجھ کو
Read Moreخُود سے مِلنے کی فُرصت کسے تھی ۔۔۔ پروین شاکر
خُود سے مِلنے کی فُرصت کسے تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی پندار کی کرچیاں چُن سکوں گی شکستہ اُڑانوں کے ٹوٹے ہُوئے پر سمیٹوں گی تجھ کو بدن کی اجازت سے رخصت کروں گی کبھی اپنے بارے میں اِتنی خبر ہی نہ رکھی تھی ورنہ بچھڑنے کی یہ رسم کب کی ادا ہو چکی ہوتی مرا حوصلہ اپنے دل پر بہت قبل ہی منکشف ہو گیا ہوتا لیکن ۔۔۔ یہاں خود سے ملنے کی فرصت کسے تھی!
Read Moreشناور اسحاق
دن نکل آیا ہے پھر تہمتِ رونق لے کر آپ کو شہر سے جانا بھی نہیں آتا ہے
Read More