شمشیر حیدر ۔۔۔ دنوں سے کیسے شبوں میں ڈھلتے ہیں دن ہمارے

Read More

ڈاکٹر نواز کاوش…بہاول پور میں اردو ادب

بہاول پور میں اردو ادب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہاول پور تاریخی ، تہذیبی اور ثقافتی اعتبار سے اپنا ایک تشخص رکھتا ہے۔ سرسوتی کے مقدس دریا کی وجہ سے اس علاقے کا ویدوں میں کئی جگہ ذکر آیا ہے۔ گنویری والا کا مقام تاریخ کا گم گشتہ باب ہے۔جو بہاول پور کے ریگزار میں آج بھی شاندار ماضی کا گواہ ہے۔ پتن منارا، سوئی وہار اور ایسے کئی دوسرے مراکز بہاول پور کے مختلف علاقوں میں اپنی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ مسلمانوں نے سندھ کے راستے ملتان تک فتوحات کیں…

Read More

رحمان حفیظ ۔۔۔ متن و سنَد سے اور نہ تسطیر سے اْٹھے

متن و سنَد سے اور نہ تسطیر سے اُٹھے جھگڑے تمام حلقۂ تعبیر سےاُٹھے اِک جبر کا فریم چڑاتا ہے میرا مُونہہ پردہ جب اختیار کی تصویر سے سےاُٹھے فکر ِسخن میں یوں بھی ہوا ہے کبھی کہ ہم بیٹھے بٹھائے بارگہِ میر سے سےاُٹھے اس دل میں اک چراغ تھا سو وہ بھی گُل ہوا ممکن ہے اب دھواں مری تحریر سےاُٹھے پلکوں پہ یہ ڈھلکتے ہوئے اشک مت بنا ممکن ہے اتنا بار نہ تصویر سے سےاُٹھے

Read More

ارشد عباس ذکی ۔۔۔ ہوا سے ہاتھ چھڑانا بہت ضروری تھا

ہوا سے ہاتھ چھڑانا بہت ضروری تھا کہ اب چراغ جلانا بہت ضروری تھا ہمارے زخم اگر اور بڑھ گئے بھی تو کیا تمہارا درد بٹانا بہت ضروری تھا مری زمین مرے دل میں بھی شگاف سا ہے یہ راز تجھ کو بتانا بہت ضروری تھا طویل نیند سے بیدار ہو رہے تھے شجر سو اب چراغ بجھانا بہت ضروری تھا مری تو جنگ مرے اپنے ہی وجود سے تھی عدو کو ساتھ ملانا بہت ضروری تھا یہ راستے جو مرے چار سو بچھے تھے ذکی کسی طرف کو تو…

Read More

احمد عقیل روبی

انسان ہے تو پھر نہ ملے کیوں غمِ حیات احمد عقیل روبی کوئی دیوتا نہیں

Read More

شاہد ماکلی ۔۔۔۔۔۔ میں گھر میں دیکھا گیا، رہ گزر میں پایا گیا

میں گھر میں دیکھا گیا، رہ گزر میں پایا گیا حضر میں ہوتے ہوئے بھی سفر میں پایا گیا میں اپنی گم شدَگی سے ہی مشتہر ہُوا ہوں میں جب کہیں بھی نہیں تھا، خبر میں پایا گیا دیا بجھا ہوا دیکھا گیا شبستاں میں کوئی مَرا ہوا اپنے ہی گھر میں پایا گیا وہ رو برو بھی نہیں تھا مگر عجب یہ ہے اسی کا عکس مری چشم تر میں پایا گیا شدید رنج ہے شاہد خبر رسانوں کو کہ خواب کیوں مرے رختِ سفر میں پایا گیا

Read More

شہزاد نیر

خاموش صداؤں سے نہ پیغام سے آیا وہ حسن مرے پاس کسی کام سے آیا

Read More

ڈاکٹر عابد سیال ۔۔۔ سننے والا میں کسی تازہ بہانے کا نہیں

سننے والا میں کسی تازہ بہانے کا نہیں نامرادانہ اب اس شہر سے جانے کا نہیں بات جو سہج بنائی تھی وہ بے ڈھب نکلی لفظ جو چن کے بٹھایا تھا ٹھکانے کا نہیں کارِ بے کار کی تکرار لگے میل ملاپ مسئلہ اور ہے کچھ، نِبھنے نبھانے کا نہیں دل اگر اپنی سبک چال حریفانہ چلے دور تک کوئی مقابل نظر آنے کا نہیں تم یہ کس زعم میں پھسلے تھے مِری مُٹھی سے گر پڑی چیز پلٹ کر میں اٹھانے کا نہیں اس کھنڈر پر نہیں رکنا،مِری منزل…

Read More

محسن اسرار

ہوا میں اُڑتا ہوا رزق پا لیا، لیکن پرندے جراتِ پرواز چھوڑ آئے ہیں

Read More

فرحان کبیر ۔۔۔ ترے اندازِ پا میں نغمگی تھی

ترے اندازِ پا میں نغمگی تھی مری آنکھوں کی رنگت بولتی تھی اُداسی، رات بستر سے نکل کر مرے گھر کی تلاشی لے رہی تھی تری آواز میرے پاس بیٹھی کئی الجھے سِرے سلجھا رہی تھی وہ میلہ دیکھنے نکلا تھا گھر سے مگر آنکھوں میں وحشت بھر گئی تھی رواں رکھنا تھا طبعِ خوش گماں کو ندی کی بند مُٹھی کھولنی تھی یہاں بارش میں بچپن کھیلتا تھا اُدھر کاغذ کی نائو ڈوبتی تھی اتر جاتی ہے اب چپ چاپ دل سے یہ دنیا کل تلک کتنی نئی تھی…

Read More