نہ مل سکا وہ جو میرے تصورات میں ہے سنا تو یہ تھا کہ بازارِ شش جہات میں ہے مجھے زمیں کے مسائل سے تھوڑی فرصت دو مرا شعور فضائے تخیلات میں ہے میں تجھ کو اب تری تصویر سے نکالوں گا تجھے خبر نہیں یہ فن بھی میرے ہاتھ میں ہے کسی قدیم کھنڈر سے مجھے نکالا گیا شمار اس لئے میرا نوادرات میں ہے یہ قیس نام کے بندے سے اس کو کیا نسبت ازل سے دشتِ جنوں میری شاملات میں ہے مرے سوال کا کیا ہے فلک…
Read MoreTag: غزل
ڈاکٹر شفیق آصف ۔۔۔ جب لمحوں نے لکھی رات
جب لمحوں نے لکھی رات قریہ قریہ پھیلی رات تارا تارا دھول ہی دھول اُتری ہے یہ کیسی رات دل میں گہری گہری سوچ فکر میں سوئی سوئی رات پھر لوگوں نے دیکھے خواب جب بھی دن نے اوڑھی رات دن پر کالک ملتی ہے غم سے بوجھل میلی رات جب آصف بچھڑی تھی شام ساتھ لپٹ کے روئی رات
Read Moreصدف چنگیزی
بس یہی دُھن ہے کہ ہربار پُکارے کوئی اچھا لگتا ہے کسی شہر میں کھونا، اے دل!
Read Moreمحسن اسرار
بہت اچھا تری قربت میں گزرا آج کا دن بس اب گھر جائیں گے اور کل کی تیاری کریں گے
Read Moreبانی ۔۔۔۔ گزر رہا ہوں سیہ، اندھے فاصلوں سےمیں
گزر رہا ہوں سیہ، اندھے فاصلوں سےمیں نہ اب ہوں رہ سے عبارت، نہ منزلوں سےمیں کہاں کہاں سے الگ کر سکوگے تم مجھ کو جُڑا ہوا ہوں یہاں لاکھ سلسلوں سےمیں قدم ملانے میں سب کر رہے تھے قوتیں صرف مِلا ہوں راہ میں کتنے ہی قافلوں سےمیں میں اس کے پاؤں کی زنجیر دیکھتاتھا بہت کچھ آشنا نہ تھا اپنی ہی مشکلوں سےمیں عجیب لوگ ہیں، کچھ کہہ لو، مان لیتے ہیں!! ہوا ہوں زیر بہت زود قاتلوں سےمیں کہو تو ساتھ بہا لے چلوں یہ دکھ بھرے…
Read Moreاحسان شاہ ۔۔۔ ہجومِ شہر پہ میں آشکار ہوتے ہوئے
ہجومِ شہر پہ میں آشکار ہوتے ہوئے اکیلا ہو گیا ہوں، بے شمار ہوتے ہوئے ہوائے وحشتِ شب کھا رہی ہے میرا وجود "میں خود کو دیکھ رہا ہوں غبار ہوتے ہوئے” وہ مر گیا تو کھلا، مر گیا ہے فاقے سے پڑوس میں کئی سرمایہ دار ہوتے ہوئے خوشی سے ڈوب گیا میں ترے سمندر میں کہ سطحِ آب پہ تنکے ہزار ہوتے ہوئے یہ کس کا عکس مرے آئنے پہ ٹھہرا ہے سمٹ گئی ہے نظر بے کنار ہوتے ہوئے دئیے کے بدلے مَیں دل کو جلا کے…
Read Moreسید علی مطہر اشعر ۔۔۔ کس طرح نزدیک تر ہوں فاصلے کیسے گھٹائیں
کس طرح نزدیک تر ہوں فاصلے کیسے گھٹائیں پھول سے چہرے ہیں لیکن پتھروں جیسی انائیں خوف کی بنیاد پر اُٹھے ہیں بچوں کے بدن بوئے خوں لاتی رہی ہیں گھر میں مقتل کی ہوائیں آپ کی خوشیوں کے گہوارے خدا قائم رکھے آیئے ہم آپ کو اپنا عزا خانہ دکھائیں رابطہ رہتا ہے ساری رات دیواروں کے ساتھ گفتگو کرتی ہے مجھ سے گھر کی سائیں سائیں پیرہن تیرا ہی جیسا ہم بھی لے آئیں، مگر اپنے چہرے سے نقوشِ مفلسی کیسے مٹائیں ہم بھی ان سے گفتگو کر…
Read Moreعنبرین صلاح الدین
اُس کے لفظوں کے مقابل میں بھلا کیا کہتی میں نے حیران ہی رہنے میں سہولت دیکھی
Read Moreممتاز اطہر
جھیل میں عکسِ شام آ پڑا ہے یہ سخن کس کے نام آ پڑا ہے
Read Moreہادی مچھلی شہری
درد سا اُٹھ کے نہ رہ جائے کہیں دل کے قریب میری کشتی نہ کہیں غرق ہو ساحل کے قریب
Read More