محسن اسرار

بہت اچھا تری قربت میں گزرا آج کا دن بس اب گھر جائیں گے اور کل کی تیاری کریں گے

Read More

بانی ۔۔۔۔ گزر رہا ہوں سیہ، اندھے فاصلوں سےمیں

گزر رہا ہوں سیہ، اندھے فاصلوں سےمیں نہ اب ہوں رہ سے عبارت، نہ منزلوں سےمیں کہاں کہاں سے الگ کر سکوگے تم مجھ کو جُڑا ہوا ہوں یہاں لاکھ سلسلوں سےمیں قدم ملانے میں سب کر رہے تھے قوتیں صرف مِلا ہوں راہ میں کتنے ہی قافلوں سےمیں میں اس کے پاؤں کی زنجیر دیکھتاتھا بہت کچھ آشنا نہ تھا اپنی ہی مشکلوں سےمیں عجیب لوگ ہیں، کچھ کہہ لو، مان لیتے ہیں!! ہوا ہوں زیر بہت زود قاتلوں سےمیں کہو تو ساتھ بہا لے چلوں یہ دکھ بھرے…

Read More

خمار بارہ بنکوی ۔۔۔ نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قیامت میں ہر شخص حیرت زدہ ہے مرے اشک ہیں، دامنِ مصطفیٰ ہے یہ کون آج دُنیا میں پیدا ہُوا ہے زمیں کی زیارت کو عرش آ گیا ہے یہ کیوں سانس اُکھڑی ہوئی ہے بُتوں کی یہ کیوں چہرہء کفر اُترا ہُوا ہے دیے ہیں کہ جلتے چلے جا رہے ہیں یہ کیوں آج اتنی مودب ہَوا ہے یہ جشنِ ولادت ہے اُس محترم کا بشر ہو کے بھی جو حبیبِ خدا ہے درِ کعبہ بھی ہے درِ کعبہ…

Read More

احسان شاہ ۔۔۔ ہجومِ شہر پہ میں آشکار ہوتے ہوئے

ہجومِ شہر پہ میں آشکار ہوتے ہوئے اکیلا ہو گیا ہوں، بے شمار ہوتے ہوئے ہوائے وحشتِ شب کھا رہی ہے میرا وجود "میں خود کو دیکھ رہا ہوں غبار ہوتے ہوئے” وہ مر گیا تو کھلا، مر گیا ہے فاقے سے پڑوس میں کئی سرمایہ دار ہوتے ہوئے خوشی سے ڈوب گیا میں ترے سمندر میں کہ سطحِ آب پہ تنکے ہزار ہوتے ہوئے یہ کس کا عکس مرے آئنے پہ ٹھہرا ہے سمٹ گئی ہے نظر بے کنار ہوتے ہوئے دئیے کے بدلے مَیں دل کو جلا کے…

Read More

سید علی مطہر اشعر ۔۔۔ کس طرح نزدیک تر ہوں فاصلے کیسے گھٹائیں

کس طرح نزدیک تر ہوں فاصلے کیسے گھٹائیں پھول سے چہرے ہیں لیکن پتھروں جیسی انائیں خوف کی بنیاد پر اُٹھے ہیں بچوں کے بدن بوئے خوں لاتی رہی ہیں گھر میں مقتل کی ہوائیں آپ کی خوشیوں کے گہوارے خدا قائم رکھے آیئے ہم آپ کو اپنا عزا خانہ دکھائیں رابطہ رہتا ہے ساری رات دیواروں کے ساتھ گفتگو کرتی ہے مجھ سے گھر کی سائیں سائیں پیرہن تیرا ہی جیسا ہم بھی لے آئیں، مگر اپنے چہرے سے نقوشِ مفلسی کیسے مٹائیں ہم بھی ان سے گفتگو کر…

Read More

عنبرین صلاح الدین

اُس کے لفظوں کے مقابل میں بھلا کیا کہتی میں نے حیران ہی رہنے میں سہولت دیکھی

Read More

ممتاز اطہر

جھیل میں عکسِ شام آ پڑا ہے یہ سخن کس کے نام آ پڑا ہے

Read More

حمیدہ شاہین ۔۔۔ گرہ کھل رہی ہے

"گرہ کھل رہی ہے” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُدھڑنے کا لمحہ سَروں پر لٹکتی ہوئی تیغ ہے اب گماں اور حقیقت کی نیلی فضا میں کہیں تیرتا ہے وہ ذرّہ سا پَل جب ترے ذہن و دل پر وہ امکان اُترے جو سب راز کھولے تری انگلیاں اُس سِرے کو پکڑ لیں جہاں اک قدیمی تسلسل تعطّل میں رکھا گیا ہے تری مضطرب انگلیاں ایک ہلکی سی جنبش سے ترتیب تبدیل کر دیں سِرا کھینچ کر تُو نئے ہی تسلسل کا آغاز کر دے وہ دہشت ،جو امکان کی قید میں ہے اُسے…

Read More

فہمیدہ ریاض … کاغذ! تیرا رنگ فق کیوں ہو گیا؟

کاغذ! تیرا رنگ فق کیوں ہو گیا؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کاغذ! تیرا رنگ فق کیوں ہو گیا؟ ” شاعر! تیرے تیور دیکھ کر” کاغذ! تیرے رُخسار پر یہ داغ کیسے ہیں "شاعر! میں تیرے آنسو پی نہ سکا” کاغذ! میں تجھ سے سچ کہوں "شاعر! میرا دل پھٹ جائے گا”

Read More

ہادی مچھلی شہری

درد سا اُٹھ کے نہ رہ جائے کہیں دل کے قریب میری کشتی نہ کہیں غرق ہو ساحل کے قریب

Read More