ہے ادھر پھر وہی شب خوں کا ارادہ برلاس اور ادھر مشغلۂ بربط و بادہ برلاس پہلے بھی ایسی ہی شب تھی کہ قیامت ٹوٹی پھر وہی رت، وہی منزل، وہی جادہ برلاس کیا اثر اس پہ ہو اعجازِ مسیحائی کا جس کے جینے کا نہ ہو اپنا ارادہ برلاس اپنے ملبوسِ دریدہ کو چھپانے کے لیے پہنے پھرتے ہو تصنع کا لبادہ برلاس جن کو قربان کریں شاہ بچانے کے لیے ہم ہیں اس بازی میں یوں جیسے پیادہ برلاس تنگ دل تنگ نظر لاکھ ہوں دنیا والے تم…
Read MoreTag: Urdu ghazal
آفتاب خان ۔۔۔۔ کھٹک رہی ہے گھُٹن کی یہ بُودوباش مجھے
کھٹک رہی ہے گھُٹن کی یہ بُودوباش مجھے پڑا ہوں میں کِسی پتھر میں تُو تراش مجھے ملائمت سے ، نفاست سے چُھو مِرا پیکر اور ایسے چُھو کہ نہ آئے کوئی خراش مجھے اِدھر اُدھر کے علاقوں میں ڈُھونڈتا ہے کیا میں تیرے دِل میں چُھپا ہُوں وہاں تلاش مجھے سفید کانچ کے پُل پر پُہنچ کے سوچتا ہُوں مِرا غُرور ہی کر دے نہ پاش پاش مجھے میں پُورے قد سے کھڑا ہوں سخن سرائے میں لگے رہے ہیں گِرانے میں بدمعاش مجھے بدن میں خُون کی شاید…
Read Moreخاور اعجاز ۔۔۔۔ عقیدت (ماہنامہ بیاض لاہور، اکتوبر 2023 )
عقیدت ۔۔۔۔۔۔۔ کبھی یہ معجزۂ ماہ و سال ہو جائے عظیم رفتہ نگہبانِ حال ہو جائے وہ روشنی ہے مِرے فکر و فن کے خیموں میں جہاں بھی اُبھرے وہاں بے مثال ہو جائے ہمیں نصیب ہو تطہیرِ فکر کی ساعت ہوس کی قید سے جذبہ بحال ہو جائے شجر کا ہاتھ نہ چھوٹے اگرچہ کانٹوں سے لہو لہان بھی شاخِ مآل ہو جائے حسینؓ آپ سے نسبت ہے جس روایت کو خدا کرے اُسے حاصل کمال ہو جائے
Read Moreخالد احمد : کیوں قیس کو وہ دشت بسانے نہیں دیتے
قابل اجمیری
مجھی پہ ختم ہیں سارے ترانے شکستِ ساز کی آواز ہوں میں
Read Moreقابل اجمیری
ہم بے کسوں کی بزم میں آئے گا اور کون آ بیٹھتی ہے گردشِ دوراں کبھی کبھی
Read Moreمحسن اسرار
اسے بھی میں نے بہت خود پہ اختیار دیے اور اس طرح کہ بہت خود پہ اختیار رکھا
Read Moreفانی بدایونی…. ابتدائے عشق ہے لطف شباب آنے کو ہے
ابتدائے عشق ہے، لطف شباب آنے کو ہے صبر رخصت ہو رہا ہے، اضطراب آنے کو ہے قبر پر کس شان سے وہ بے نقاب آنے کو ہے آفتاب صبح محشر ہم رکاب آنے کو ہے مجھ تک اس محفل میں پھر جام شراب آنے کو ہے عمر رفتہ پلٹی آتی ہے، شباب آنے کو ہے ہائے کیسی کشمکش ہے یاس بھی ہے آس بھی دم نکل جانے کو ہے، خط کا جواب آنے کو ہے خط کے پرزے نامہ بر کی لاش کے ہم راہ ہیں کس ڈھٹائی سے…
Read Moreقابل اجمیری
احباب کے فریبِ مسلسل کے باوجود کھنچتا ہے دل خلوص کی آواز پر ابھی
Read Moreہاجر دہلوی … جب کسی کا خیال آتا ہے
جب کسی کا خیال آتا ہے دل میں غم کا ابال آتا ہے یوں ہی فرقت میں عمر گزرے گی کب پیامِ وصال آتا ہے آپ باتوں میں ٹال دیتے ہیں وصل کا جب سوال آتا ہے کل جسے بزم سے نکالا تھا پھر وہی خستہ حال آتا ہے پھیکا پھیکا ہے چاند گردوں پر کون رشکِ ہلال آتا ہے ہائے اس بت نے بے وفائی کی صرف اتنا خیال آتا ہے دل لگی کے سوا تجھے‘ ہاجر! اور بھی کچھ کمال آتا ہے
Read More