انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ دیکھا جو مجھ کو چھوڑ دیے مسکرا کے ہاتھ بے ساختہ نگاہیں جو آپس میں مل گئیں کیا منہ پر اس نے رکھ لیے آنکھیں چرا کے ہاتھ یہ بھی نیا ستم ہے حنا تو لگائیں غیر اور اس کی داد چاہیں وہ مجھ کو دکھا کے ہاتھ بے اختیار ہو کے جو میں پاؤں پر گرا ٹھوڑی کے نیچے اس نے دھرا مسکرا کے ہاتھ گر دل کو بس میں پائیں تو ناصح تری سنیں اپنی تو مرگ و زیست…
Read MoreTag: Urdu ghazal
محمد علوی … دھوپ نے گزارش کی
دھوپ نے گزارش کی ایک بوند بارش کی لو گلے پڑے کانٹے کیوں گلوں کی خواہش کی جگمگا اٹھے تارے بات تھی نمائش کی اک پتنگا اجرت تھی چھپکلی کی جنبش کی ہم توقع رکھتے ہیں اور وہ بھی بخشش کی لطف آ گیا علوی واہ خوب کوشش کی
Read Moreنظیر اکبر آبادی … ایک تعارف
نظیر اکبر آبادی کا نام شیخ ولی محمد تھا۔ نظیر تخلص رکھ کر شاعری کی۔ نظیر 1735 میں دلی میں پیدا ہوئے۔ بعض محققین کے نزدیک نظیر 1732-1740 کے عرصہ کے دوران پیدا ہوئے۔ ڈاکٹر رام بابو سکسینہ کے مطابق نادر شاہ کے دہلی حملہ کے وقت پیدا ہوئے تھے۔ آپ کا مزار دہلی میں ہے۔ آپ کے والد کا نام محمد فاروق تھاجو اپنے والدکی بارہ اولادوں میں سے صرف ایک ہی بچے تھے۔ ابھی چھوٹے ہی تھے کہ والدہ کے ساتھ آگرہ منتقل ہو گئے اور محلّہ تاج…
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ ہوئے عشق میں امتحاں کیسے کیسے
ہوئے عشق میں امتحاں کیسے کیسے پڑے مرحلے درمیاں کیسے کیسے رہے دل میں وہم و گماں کیسے کیسے سَرا میں ٹِکے کارواں کیسے کیسے گھر اپنا غم و درد سمجھے ہیں دل کو بنے میزباں‘ میہماں کیسے کیسے شبِ ہجر باتیں ہیں دیوار و در سے ملے ہیں مجھے رازداں کیسے کیسے دکھاتا ہے دن رات آنکھوں کو میری سیاہ و سفید آسماں کیسے کیسے جو کعبے سے نکلے‘ جگہ دیر میں کی ملے ان بتوں کو مکاں کیسے کیسے فرشتے بھی گھائل ہیں تیرِ ادا کے نشانہ ہوئے…
Read Moreنعت رسول پال صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔ محمد انیس انصاری
نعتؐ کٹ جائے گی جیون کی سِیہ رات کسی دن ہو جائے گی آقاؐ سے ملاقات کسی دن آئے گا مدینے سے ہوا کا کوئی جھونکا مہکیں گے دل و جاں کے مضافات کسی دن کاسہ لیے بیٹھے ہیں مدینے کے گداگر بانٹیں گے فقیروں میں وہ خیرات کسی دن آنکھوں میں سما جائے گا وہ چہرۂ انور بن جائے گی ہم ایسوں کی بھی بات کسی دن روئیں گے کبھی سینۂ اقدس سے لپٹ کر برسے گی عجب ڈھنگ سے برسات کسی دن آقاؐ کی محبت مری مٹی میں…
Read Moreرضا اللہ حیدر ۔۔۔ سلام
سلام میدانِ کربلا میں جو پیاسا حسین ہے دشمن کئی ہزار ہیں تنہا حسین ہے دو پھول خوش اصول ہیں باغِ رسولؐ کے اک خوش ادا حسن ہے تو دوجا حسین ہے اے خاکِ کربلا ترے ذروں کو چوم لوں تجھ پہ وطن سے دوری میں ، تڑپا حسین ہے میرا ہے یہ عقیدہ ، کہوں گا میں برملا سارے عدو ہی جھوٹے ہیں سچا حسین ہے خلدِ بریں میں شان ہے کیا شان آپ کی سب جنتی براتی ہیں دولھا حسین ہے چشمِ فلک تو دیکھ ، ہے زندہ…
Read Moreخاور اعجاز ۔۔۔ ڈھکوسلے
ڈھکوسلے پانی بھر کر لائی ناری سر پر بوجھ اُٹھا مٹکے پر بیٹھا کوّا اور مٹکا دیا گِرا سیج پہ بیٹھی عورت دیکھے مورکھ کا چہرا آنکھوں میں لہراتے بادل ! دِل کی پیاس بجھا ایک ستارہ اُفق کنارے دیکھے ہے رَستا کھڑکی کھول کے بیٹھی جوگن پردہ ذرا ہٹا لڑکی ڈھونڈ رہی تھی کچھ دِن سے جنگل میں جا ساون کی پہلی بارش نے رستہ دیا دِکھا گوری نے ساجن کی خاطر دامن لیا جلا ہنڈیا چولہے پر رکھی اور پنکھا دیا چلا
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ بہانہ وفا کا نکالا گیا
بہانہ وفا کا نکالا گیا بہت خون میرا نکالا گیا شرارے اُچھلتے رہے سنگ سے چٹانوں سے دریا نکالا گیا مرا زخم بڑھ جائے گا اور کچھ اگر اب یہ نیزا نکالا گیا بغاوت نہیں دب سکے گی حضور جو کانٹے سے کانٹا نکالا گیا تپکتی تھی دنیا مرے پاؤں میں بمشکل یہ چھالا نکالا گیا محبت سے وہ باز آئے نہیں تو بستی سے کنبہ نکالا گیا
Read Moreاعجاز عبید ۔۔۔ وہ جسے سن سکے وہ صدا مانگ لوں
وہ جسے سن سکے وہ صدا مانگ لوں جاگنے کی ہے شب کچھ دعا مانگ لوں اس مرض کی تو شاید دوا ہی نہیں دے رہا ہے وہ، دل کی شفا مانگ لوں عفو ہوتے ہوں آزار سے گر گناہ میں بھی رسوائی کی کچھ جزا مانگ لوں شاید اس بار اس سے ملاقات ہو بارے اب سچے دل سے دعا مانگ لوں یہ خزانہ لٹانے کو آیا ہوں میں اس کو ڈر ہے کہ اب جانے کیا مانگ لوں اب کوئی تیر تر کش میں باقی نہیں اپنے رب…
Read Moreمرزا اسداللہ خاں غالب ۔۔۔ غزل
بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا رکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا اِس تکلف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب آستیں میں دشنہ پنہاں ، ہاتھ میں نشتر کھلا گو نہ سمجھوں اس کی باتیں ، گونہ پاؤں اس کا بھید پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا ہے خیالِ حُسن میں حُسنِ عمل کا سا خیال خلد کا اک در ہے میری گور کے…
Read More