کہِیں اُس طرف بھی رات نہ ہو!٭ ۔۔۔ حامد یزدانی

کہِیں اُس طرف بھی رات نہ ہو!٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اِس طرف کمرا خاموش ہے۔ شام کا پردہ گرتا ہے اور وہ دھڑام سے بستر پرآ گرتا ہے۔ غیر ارادی طور پر ہی اس کا بایاں ہاتھ تپائی کی طرف بڑھتا ہے اور ٹیبل لیمپ روشن کر دیتا ہے۔ زیرو واٹ بلب کا زردی مائل اجالاگویا منہ چڑانے لگتا ہے، تپائی پر اونگھتی کتاب کا یا شاید اُس میں قید رات کا۔جانے کیا سوچ کر وہ کتاب اٹھا لیتا ہے اور جانے کیوں وہی صفحہ کُھلتاہے جس پر سِرے سے صفحہ نمبر…

Read More

باکمال شاعر،ادیب،نغمہ نگار،صحافی اورمترجم: سید یزدانی جالندھری ۔۔۔ سید ماجد یزدانی

باکمال شاعر،ادیب،نغمہ نگار،صحافی اورمترجم: سید یزدانی جالندھری (تیسویں برسی پر خصوصی تحریر) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یزدانی جالندھری اردو میں جدید کلاسیکی روایت کے ترجمان شاعر تھے۔ یزدانی جالندھری (1915ء-1990ء) کی ولادت پنجاب کے ادب خیز شہر جالندھر کے گیلانی سادات گھرانے میں ہوئی۔ ان کا خاندانی نام ابو بشیر سیّد عبدالرشید یزدانی اور والد کا نام سیّد بہاول شاہ گیلانی تھا جو محکمہ تعلیم میں صدر مدرس تھے. ابتدائی تعلیم جالندھر میں حاصل کی۔ تقسیمِ برِصغیر سے پہلے ہی ان کا خاندان منٹگمری (ساہیوال) منتقل ہو گیا اور یزدانی وہاں سے مزید تعلیم…

Read More

وہ اور وہ ۔۔۔ حامد یزدانی

وہ  اور  وہ ۔۔۔۔۔۔ ’’اچھا، تم ہی بتائو مجھے ۔۔۔۔ جو نہیں ہے یا نہیں ہوا، کیا وہ ہو بھی نہیں سکتا؟‘‘ ’’بھئی، اشفاق صاحب کے افسانوں کی حدتک تو سب کچھ ہو سکتا ہے ۔۔۔کوئی نورانی بابا جی اچانک کہیں سے نمودار ہو کرجنگل میں بھٹکتے پیاسے کو ہدایت کاروح افزا پلا سکتے ہیں، ایک جیپ خود بخود سٹارٹ ہو کر اپنے مالک کے قاتل کو انجام تک پہنچا سکتی ہے ۔۔۔ مگر حقیقت اور افسانہ دو مختلف چیزیں ہیں‘‘۔ ’’کچھ ایسی مختلف بھی نہیں ہیں کہ جن کے…

Read More

حامد یزدانی ۔۔۔ ہیں کہیں دُور جُھمبر کی لے کاریاں، کچے صحنوں سے اُٹھتا دھواں ہے کہیں

ہیں کہیں دُور جُھمبر کی لے کاریاں، کچے صحنوں سے اُٹھتا دھواں ہے کہیں گاؤں کی شام ایسی مصورنےبھی پھر کسی کینوس پراتاری نہیں دل کے لاہورکی بُرجیاں، دیکھتے دیکھتے، زیرِ آبِ خیال آگئیں اب کے آنکھوں کا راوی چڑھا تو پس انداز یادوں کی کتنی ہی نظمیں بہیں کیسے کیسے نہ موسم مِرے گھر کی چھت سے گزر کر گماں ہو چکے، دوستو! دوپہر اک دسمبر کی، ٹھہری ہوئی آج بھی گیلی دیوار پر ہے وہیں صبح کی پھیکی پھیکی سی مرطوب حدّت، بدن سے چپکنے لگی ہم نشیں…

Read More

سائڈ ریکنگ پر ۔۔۔۔ حامد یزدانی

سائیڈ ریلنگ پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اداس لیمپ پوسٹ کی تھکی تھکی سی روشنی بجھے درخت کی سلگتی اوٹ میں کھلی کھلی مہک دھواں اُڑا کے لے گیا ہے کون چاند کو خبر نہیں اب اور کتنی بار پرس رات کا ٹٹولیے ہتھیلی پر سجے بلیک بیری پر ای میل اپنی کھولیے ! کہ نیٹ ورک آج خوب ہے کسی سے بات کیجیے کسی سے کچھ تو بولیے

Read More

کو ّے ۔۔۔ حامد یزدانی

کوّے ۔۔۔۔۔ طویل اور مہیب راہداری عبور کر کے میں ایک دالان میں جا نکلتا ہوں جس کے گرد اونچی فصیلیں ایستادہ ہیں۔ ایک عجیب دھند چھائی ہوئی ہے۔ نہ صاف اجالا ہے نہ صاف اندھیرا ۔سامنے ایک سیاہ محرابی بےکواڑدروازہ نُما ہے۔ اچانک عقب سے کَھٹ کی آواز آتی ہے۔ میں مُڑ کر دیکھتا ہوں۔ میرے آنے کا راستہ بھی دیوار ہو چکا ہے۔ بھیانک اندھیرا چھانے لگتا ہے اور یکا یک ہر سمت سے بےسمت چیخیں بلندہونےلگتی ہیں۔ادھرسیاہ محرابی دروازہ نُما سے ایک ہیولہ برآمد ہوتا ہے؛ ماحول…

Read More

حامد یزدانی ۔۔۔۔۔۔۔ پُرانی شال میں قوسِ قزح کو بھرتے ہُوئے

پُرانی شال میں قوسِ قزح کو بھرتے ہُوئے زمیں نے آئنہ دیکھا نہیں سنورتے ہُوئے مِرے خیال کے سب رُوپ، اپنے حُسن کی دھوپ وہ لے اُڑا ہے مِرے خواب سے گذرتے ہوئے کچھ ایسے دوست نہیں ہیں توازن و رفتار رہا نہ دھیان میں ڈھلوان سے اُترتے ہُوئے کوئی چراغ جلا کر منڈیر پر رکھ د و ہَوا اُداس نہ ہو جائے پھر گذرتے ہُوئے کہیں جو گھر سے اُدھر بھی مِر ا ہی گھر نکلا ! ٹھٹھک گیا تھا میں دہلیز پار کرتے ہُوئے تِرے پڑوس میں صحر…

Read More

خامشی کے سبز پس منظر میں (جناب خالد علیم کے لیے) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حامد یزدانی

خامشی کے سبز پس منظر میں (جناب خالد علیم کے لیے) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گُلِ اظہارِجاں تم جانتے ہی ہو کہ میں نے خامشی کے سبز پس منظر میں بھی اِک عُمر خاموشی سُنی ہے پیش منظر کے سُلگتے شور کے اُس پار جذبے بولتی آنکھیں محدّب حیرتوں کے عکس بُنتی سوچتی آنکھیں حدودِ عرصۂ ہجر و توصّل سے ورا تہذیب سے الفاظ کا اور خیر سے اخلاص کا رشتہ مجسم نظم لگتا ہے کتب خانے کی الماری میں روشن اک کلاسیکی مجلّہ مسکراتی دوستی اک میز کے کونے سے کونے تک…

Read More

یزدانی جالندھری

تنہا چمن میں چھوڑ گئی ہے ستم ظریف دوشِ صبا پہ اتنے گراں بار ہم نہ تھے

Read More

من ہیٹن میں ایک شام …… حامد یزدانی

من ہیٹن میں ایک شام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اونچی اونچی عمارتوں میں گھری ناشناسا سی اک شناسائی نیچے تکتی ہے بادلوں کی طرف ادھ کھلی آنکھ کے دریچے سے جلتا بجھتا نشان تھامے ہوئے ٹائم اسکوئر پر رُکا لمحہ کس گزشتہ صدی کا ماتم ہے زندگی ہے کہ ییلو کیب کوئی ہارن دیتی گزر ہی جاتی ہے موت کی راہ صاف کرتی ہوئی ایک پولیس کار۔۔۔ ایمبیولینس کوئی شور دم توڑنے لگا یک دم ان گنت پائوں بڑھنے لگتے ہیں دھیرے دھیرے براڈوے کی سمت ’کسی نزدیکی روڈ پر پہنچیں‘ نیوی گیٹر…

Read More