افضل گوہر … نظم

نظم۔۔۔۔۔وصل کے جلتے دِیوں کی آنکھ میں اتری گلابی روشنیرات کی میلی سیاہی میں پڑی لمبی دراڑباہمی لذت بھری سرگوشیاںاور پھر خاموشیاںمطمئن ہوتے شکن آلود جسمانتہائی انبساطرفتہ رفتہ صبح کی پہلی کرن نے جاگ کر انگڑائی لیتیرگی نے دیکھنے کو روشنی کی آنکھ سے بینائی لیپیڑ پر بیٹھے پرندوں کی نگاہیں صحن پر مرکوز تھیںدانہ دانہ اُس کی زلفوں سے وفا کا باجرہ گرنے لگاوہ نہا کر آئی تو اتنی نشیلی ہو گئیبارشوں سے دن کی ساری دھوپ گیلی ہو گئی

Read More

توقیر عباس… نظم

عکس اور تحریریں ذہنوں میں جگہ بناتے ہیں وبا کے بعد ان کا بھرپور تجربہ ہوا چھینکتے پہلے بھی تھے کوئی ہم کو یاد کرتا ہے ، یہ تصور ابھرتا تھا مگر اب چھینک کی آواز خطرے کے الارم کی طرح لگتی ہے کھانستے پہلے بھی گلے کی خراش یا گھی کی پھانس سمجھتے تھے چائے پیتے گڑ کھاتے اور مزے اڑاتے تھے مگر اب کھانسی کی آواز ایمبولینس کے بلاوے کا نمبر ڈائل کرتی محسوس ہوتی ہے بخار پہلے بھی ہوا کرتا تھا رضائی اور لحاف میں قرنطینہ کرتے…

Read More

معین ناصر ۔۔۔ زندگی بھر خزاؤں میں رہنا

زندگی بھر خزاؤں میں رہنا کس لیے بے وفاؤں میں رہنا جا رہا ہوں ترے نگر سے، مجھے اب نہیں ان خداؤں میں رہنا مار ڈالے گی غم کی ارزانی کم کرو انتہاؤں میں رہنا یہ غزل آخری سمجھ کے سنو اور سیکھو بلاؤں میں رہنا اچھا لگتا ہے، ہر گھڑی ناصر یوں کسی کی دعاؤں میں رہنا

Read More

گلزار ۔۔۔ صبح صبح اٹھتے ہی ۔۔۔۔۔

Read More

فرید جاوید ۔۔۔ منزلیں دور راستے موہوم

Read More

اشارے ۔۔۔ منیر نیازی

 اشارے ۔۔۔۔۔۔ شہر کے مکانوں کے سرد سائبانوں کے دل رُبا، تھکے سائے خواہشوں سے گھبرائے رہرووں سے کہتے ہیں رات کتنی ویراں ہے موت بال افشاں ہے اس گھنے اندھیرے میں خواہشوں کے ڈیرے میں دل کے چور بستے ہیں ان کے پاس جانے کے لاکھ چور رستے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: تیز ہوا اور تنہا پھول

Read More

بہار کی واپسی ۔۔۔ خلیل الرحمن اعظمی

بہار کی واپسی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں چپ چاپ بیٹھا ہوں اس رہگزر پر یہی سوچتا ہوں کہ خط لانے والا کہیں آج بھی کہہ نہ دے: کچھ نہیں ہے یہ کیا بات ہے لوگ اک دوسرے سے جدا ہو کے یوں جلد ہیں بھول جاتے وہ دن رات کا ساتھ ہنسنا ہنسانا وہ باتیں جنھیں غیر سے کہہ نہ پائیں اچھوتے سے الفاظ جو شاہراہوں پہ آتے ہوئے دیر تک ہچکچائیں کچھ الفاظ کے پھول جو اس چمن میں کھلے تھے جسے محفلِ دوش کہیے جو کچھ دیر پہلے ہی برہم…

Read More

سلسلے سوالوں کے ۔۔۔ خلیل الرحمن اعظمی

سلسلے سوالوں کے ۔۔۔۔……۔۔۔۔۔۔۔ دن کے چہچہوں میں بھی رات کا سا سنّاٹا رات کی خموشی میں جیسے دن کے ہنگامے جاگتی ہوئی آنکھیں، نیند کے دھندلکوں میں خواب کے تصوّر میں اک عذابِ بیداری روز و شب گزرتے ہیں قافلے خیالوں کے صبح و شام کرتے ہیں آپ اپنی غم خواری ہم کہاں ہیں؟ ہم کیا ہیں؟کون ہیں مگر کیوں ہیں؟ ختم ہی نہیں ہوتے سلسلے سوالوں کے چشمۂ ہدایت ہے علم کے صحیفوں میں فن کے شاہکاروں میں اک چراغِ عرفاں ہے مرحمت کے ساماں ہیں ان کی…

Read More

منیر نیازی ۔۔۔ تنہائی

تنہائی ۔۔۔۔۔۔ میں ، نگہت اور سونا گھر تیز ہوا میں بجتے در لمبے صحن کے آخر پر لال گلاب کا تنہا پھول اب میں اور یہ سونا گھر تیز ہوا میں بجتے در دیواروں پر گہرا غم کرتی ہے آنکھوں کو نم گئی دنوں کی اڑتی دھول

Read More

مظفر حنفی ۔۔۔ ایک نظم

ایک نظم ۔۔۔۔۔۔ دن چڑھ آیا چل، ہم زاد! میرے بستر پر تو آ جا کالی نفرت سُرخ عقیدت بھوری آنکھوں والی حیرت بھولی بھالی زرد شرافت نیلا نیلا اندھا پیار رنگ برنگے غم کے تار خوشیوں کے چمکیلے ہار دھانی، سبز سپید، سنہرے اپنے سارے نازک جذبے پھر دن کو تجھ کو سونپے مصلحتوں کے شہر میں ان کے لاکھوں ہیں جلّاد دن چڑھ آیا چل، ہم زاد!

Read More