علامہ طالب جوہری ۔۔۔ ہم کو سوادِ شہر وفا میں ہم سفری الزام ہوئی

ہم کو سوادِ شہرِ وفا میں ہم سفری الزام ہوئی برسوں اس کے ساتھ پھرے ہیں تب یہ کہانی عام ہوئی بادل بن کر بادِ صبا کے دوش پہ اُڑتی پھرتی تھی روحِ نمو جب سایہء گُل میں آئی تو   زیر ِ دام ہوئی بے مقصد پرواز سے تھک کر تتلی پھول پہ بیٹھ گئی پھول تو اپنی جان سے ہارا، تتلی بھی بدنام ہوئی نام و نسب کو اپنی گرہ میں باندھ کے ہم خوش ہیں، ورنہ ہجر سے لے کر ہجرت تک ہر جنس یہاں نیلام ہوئی کوفے…

Read More

علامہ طالب جوہری ۔۔۔ دھندے

دَھندے ۔۔۔۔۔۔ پچھلے سفر میں لندن کے اک تُرکی رستوران کے اندر اُس نے کہا تھا "سارے کاموں کو نپٹا کر میرے پاس چلے آنا رشتے، ناطے مستقبل کے سب منصوبے جب تم اپنے دھندوں سے فارغ ہو جائو میرے پاس چلے آنا ہم تم دونوں اپنے جنوں کی شمع جلا کر اپنے گھر کا گھور اندھیرا دُور کریں گے اور وہ گھر آباد رہے گا” لیکن مَیں اِک سندھی گوٹھ میں پھونس کے چھپر والے ہوٹل کی کرسی پر کب سے بیٹھا سونچ رہا ہوں دنیا کے دھندے کس…

Read More

بدل گئی ہے بہت آس پاس کی صورت (غلام حسین ساجد) ۔۔۔۔ نوید صادق

بدل گئی ہے بہت آس پاس کی صورت (دیباچہ: مجموعہ کلام "اعادہ”) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستر کی دہائی اُردو غزل میں ایک انقلاب کی دہائی ہے۔ ثروت حسین، محمد اظہارالحق اور غلام حسین ساجد اِس انقلاب کے بڑوں میں سے نمایاں نام ہیں۔ثروت حسین نے ایک قلیل عرصۂ شعر میں اپنے انمول اور انمٹ نقوش ثبت کرنے کے بعد موت کو گلے لگا لیا، محمد اظہارالحق کچھ عرصہ بعد تقریباً خاموش ہو گئے۔ اب ان کی کبھی کبھار کوئی غزل نظر پڑتی بھی ہے تو یہی احساس ہوتا ہے کہ وہ ستّر…

Read More

تناظر : ایک ماحولیاتی تنقیدی تجزیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ الیاس بابر اعوا ن

تناظر : ایک ماحولیاتی تنقیدی تجزیہ (An Ecocritical Analysis) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیجیے کہ ماحولیاتی تنقیدی تناظر ادب اور طبیعیاتی ماحول کے مابین تعلق کے مطالعے کا نام ہے:شیرل گلاٹ فلٹی(۱ (ماحولیاتی تنقیدی تھیری یا گرین سٹڈیز دونوں دراصل ایک ہی ہیں۔امریکہ میں اس نظریے کا آغاز ۸۰ کی دہائی اوربرطانیہ میں ۹۰ کی دہائی میں ہُوا۔امریکہ میں اس کی داغ بیل شیرل گلاٹ فلٹی نے ڈالی جس نے ۱۹۹۶ء میں The Ecocriticism Reader: Landmarks in Literary Ecology کے نام سے ایکو کرٹی سزم پر مشتمل مضامین…

Read More