ہم اہلِ دل نے نہ دیکھے بسنت کے لمحے کھلے نہ پھول کبھی خواب میں بھی سرسوں کے عجیب مرد تھے زنجیرِ کرب پہنے رہے کنارِ شوق کسی شاخِ گل کو چھو لیتے اُفق پہ صبح کا سورج طلوع ہوتا ہے ستارے ڈوب چکے‘ مشعلیں بجھا دیجے مرے خدا ! مری دھرتی کی آبرو رکھ لے ترس گئی ہیں نئی کونپلیں نمو کے لیے مری وفا کے گھروندے کو توڑنے والے! خدا تجھے بھی اذیت سے ہمکنار کرے بجھی نہ پیاس کبھی تجربوں کے صحرا میں تمام عمر سفر میں…
Read MoreTag: Urdu ghazal
قلق لکھنوی
ادا سے دکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا بس اک نگاہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا
Read Moreڈاکٹرمحمدافتخارشفیع ۔۔۔ الف د نسیم :عقیدۂ راسخہ کی غزل
الف د نسیم :عقیدۂ راسخہ کی غزل ڈاکٹر الف ۔ د ۔ نسیم کی ارد وغزل محبت کے اس سرمدی رشتے سے منسلک ہے ، جس کے فروغ میں ولی دکنیؒ، سراج اورنگ آبادیؒ، اورمیرزامظہرؒ سے خواجہ میردردؒ تک کے شعرانے حصہ لیا۔امیرمینائیؒ،بیدم شاہ وارثیؒ،فانی بدایونیؒ،امجدحیدرآبادیؒ،آسی غازی پوریؒ اوراصغر گونڈویؒ سے سید وجیہ السیماعرفانیؒ اوربابا ذہین شاہ تاجیؒ تک کے شعرانے اس محبوبۂ دل براں صنف سخن میں حسن وعشق کے ازلی وابدی تصورات کو شاعرانہ اندازمیں بیان کیاگیا۔’’تصوف برائے شعرگفتن خوب است‘‘والی بات ہمارے شعراکی تصوف اور اس کے…
Read Moreیونس متین
اتار کر تجھے کیا کیا نہ میں ہُوا عریاں مرے بدن پہ فقط ایک ہی لباس تھا تُو
Read Moreمعین ناصر ۔۔۔ تھا کوئی خوف، لیکن واہموں جیسا
تھا کوئی خوف، لیکن واہموں جیسا وہ حال اپنا برستے بادلوں جیسا کوئی بھی اس مکاں میں اب نہیں رہتا زمیں پر کیا ہوا ہے حادثوں جیسا بکھرنے جو نہیں دیتا مجھے، ایسا ہے کیا ماں کی دعا میں حوصلوں جیسا وہی ہیں خون کے رشتے،وہی گھر ہے مگر ہے درمیاں کچھ فاصلوں جیسا کہانی میں سفر کی درج ہے ناصر سڑک پر کچھ پڑا تھا آبلوں جیسا
Read Moreمرزا جعفر علی خاں اثر لکھنوی
ہم نے رو رو کے رات کاٹی ہے آنسوئوں پر یہ رنگ تب آیا
Read Moreسعید راجا ۔۔۔ مدارِ عشق میں آکر کلام کرنے لگا
مدارِ عشق میں آکر کلام کرنے لگا ازل سے چپ تھا جو فرفر کلام کرنے لگا تمام ہونے لگی تھی سماعتوں کی طلب پھر ایک روز وہ پتھر کلام کرنے لگا ہمارے شہر میں قدغن تھی بات کرنے پر میں اپنے آپ سے چھپ کر کلام کرنے لگا مِری زبان کو لکنت نے آ لیا تھا مگر وہ ہنس پڑا تو میں بہتر کلام کرنے لگا درونِ چشم ذرا سی تری جھلک اتری مِری نگاہ سے منظر کلام کرنے لگا یہ کس طلسم کدے میں صدا لگا بیٹھے جواب میں…
Read Moreذوالفقار نقوی
کھوجتا کیا ہے اندھیروں میں تفاہم کے دیے آ چراغوں میں لہو ڈال، اجالے ہوں گے
Read Moreعزیز فیصل … کمال یہ ہے کہ کوئی کمال ہوتا نہیں
کمال یہ ہے کہ کوئی کمال ہوتا نہیں اور اس بساط پہ دل کو ملال ہوتا نہیں مری زبان ہے اتنی گریز حسنِ طلب ہر ایرے غیرے کے آگے سوال ہوتا نہیں زمانہ ساز کچھ ایسے بھی میرے شہر میں ہیں محال کام بھی جن پر محال ہوتا نہیں محبتوں کے کلینڈر میں یہ خرابی ہے کہ ختم ہجر کا کوئی بھی سال ہوتا نہیں حصار ِحسن میں، بندِ ادا میں آئے بغیر کوئی خیال بھی حسنِ خیال ہوتا نہیں اجڑ گئے ہیں کئی پیڑ میری بستی کے بیان مجھ…
Read Moreحمد باری تعالی ۔۔۔ نسیمِ سحر
جو بھی لکھتا ہوں سخن پارۂ حمد لب پہ آ جاتا ہے اِک نعرۂ حمد گویا ہو جاتا ہے قرآں گویا ! جو بھی پڑھتا ہوں مَیں سیپارۂ حمد ہفت افلاک سے بھی بالا ہے کیا کہوں رفعتِ مینارۂ حمد ! حمدِ باری کا مَیں جو حرف لکھوں وہی بن جاتا ہے شہ پارۂ حمد پیش منظر ہوں کہ پس منظر ہوں دیدنی سب میں ہے نظّارۂ حمد دے گیا حمد کی سوغات نسیمؔ مہرباں ہو گیا ہر کارۂ حمد
Read More