زیتون بانو اُردو اور پشتو کی نام ورشاعرہ، ادیبہ، ڈراما نگار ۱۸؍ جون ۱۹۳۸ء کے روز پشاور میں پیدا ہوئیں۔اُن کے والد بھی اپنے زمانے کے معروف روشن خیال ادیب تھے۔وہ ابتدا میں فرضی ناموں سے ادبی جریدوں میں لکھتی رہیں۔پشتو اور اُردو میں اعلیٰ تعلیم کے بعد ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہیں۔ریڈیو اور ٹیلی وژن کے لیے ڈرامے لکھے۔ابھی طالبہ ہی تھیں کہ اُن کا پشتو افسانوں کا مجموعہ ہُنڈارہ (آئینہ ۱۹۵۸ء) شائع ہوا۔دوسرا مجموعہ مات بنگری (ٹوٹی چوڑیاں) شائع ہوا۔ مجموعی طور پر اُن کی پشتو میں آٹھ…
Read MoreTag: افسانہ
اکرم کنجاہی ۔۔۔ مسرت افزا روحی
مسرت افزا روحی مسرت افزا روحی درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔شاعرہ، ادیبہ، صحافی،مدیرہ اور افسانہ نگار ہیں۔ اُن کا شعری مجموعہ ’’حرزِ جاں‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ صحافت کو بھی اپنایا اور ’’زاویۂ نگاہ‘‘ کی مدیرہ رہی ہیں۔اُن کا افسانوی مجموعہ ’’آوازیں‘‘ ۲۰۰۴ء میں منظر عام پر آیا تھا۔اُن کا مطالعہ خوب ہے۔محسوس ہوتا ہے کہ کئی افسانے لکھنے کے لیے انہوں نے خاصی تحقیق بھی کی ہے۔قوتِ مشاہدہ تیز ہے۔وہ بھی اُن چند فکشن نگاروں میں سے ہیں جن کے افسانوں کا اختتامیہ…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ عصمت چغتائی
عصمت چغتائی عصمت سے قبل ، اُردو ادب میں پندرہ سے بیس ناول نگار خواتین موجود ہیں اور اُن کے پچاس ساٹھ ناولوں کا ذکر بھی تاریخِ ادب میں ملتا ہے مگرعصمت چغتائی اُن ناول نگاروں میں سے ہیں جنہوں نے اُردو میں پہلی بار متوسط گھرانے کی عورتوں کی جنسی گھٹن پر قلم اٹھایا ہے لیکن انہوں نے کہیں بھی اُن کے پس منظر میں سماجی عوامل کو نظر انداز نہیں کیا۔ اس لیے ان کے فن میں داخلیت، نفسیات کی پیچیدگیوں کے ساتھ گرد و پیش کے اثرات…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔۔ قرۃ العین حیدر
قرۃالعین حیدر یہ الگ بحث ہے کہ اُردو میں نیا افسانہ کیا ہے ؟ مگر بہت سے نا قدین کے بر عکس جنہوں نے کرشن چندر کے ’’غالیچہ‘‘ یا منٹو کے ’’پھندنے‘‘ کو نئے افسانے کا آغاز قرار دیا ہے، محمود ہاشمی اختلاف کرتے ہوئے قرۃ العین کو نئے افسانے کا نقطۂ آغاز قرار دیتے ہیں۔انہوں نے تقسیم ہند سے قبل لکھنے کی ابتدا کر دی تھی مگر آزادی کے بعد جو کچھ لکھا وہ آئندگان کے لیے نشانِ راہ ثابت ہوا۔شروع کی کچھ تخلیقات میں اسلوب روایتی تھا مگر…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ ممتاز شیریں
ممتاز شیریں ممتاز شیریں نے اُردو افسانے ہی میں کامیابی کے جھنڈے نہیں گاڑے بلکہ حسن عسکری کی ٹھریک پر وہ ایک بہترین ادبی ناقد کے طور پر بھی نمایاں ہوئیں۔اکثر ناقدین فن کا خیال ہے کہ اُں کے اکثر افسانوں میں سوانحی رنگ، ذاتی زندگی، میاں بیوی کی والہانہ محبت، خوش گوار زندگی، استوار تعلقات کا ذکر ملتا ہے۔بہر حال اگر ذاتی زندگی اور تجربات کو بھی افسانوں کا موضوع بنایا جائے تو اِس میں بھی کوئی قباحت نہیں۔اُن کے افسانوں میں اکثر پلاٹ اسی نوعیت کے ہیں۔جیسے اُنہوں…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ نثار بٹ عزیز
نثار عزیز بٹ نثار عزیز بٹ نے ناول کے علاوہ کسی صنفِ ادب میں نہیں لکھا، البتہ اُن کے سوانح حیات ’’گئے دنوں اک سراغ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی۔عالمی اور روسی ادب پر اُن کی گہری نظر تھی۔ نثار کا پہلا ناول’’نگری نگری پھرا مسافر‘‘ ۱۹۵۴ء میں منظر عام پر آیا تھا۔پھراُن کے دوسرے ناول’’نے چراغے نے گلے‘‘ ۱۹۷۳ء نے اشاعت کی منزلیں طے کیں اور ۱۹۸۰ء کے اواخر میں انہوں نے’’کاروانِ وجود‘‘ پیش کیا تھا۔ ان کے ناقدین نے انہیں وہ مقام نہیں دیا جس کی وہ مستحق…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ رشیدہ رضویہ
رشیدہ رضویہ رشیدہ رضویہ کو وہ پذیرائی حاصل نہیں ہوئی جس کی وہ حق دار تھیں۔ خاص طور پر اُن کا ناول ’’گھر میرا راستے غم کے‘‘ سراہا جانا چاہیے تھا۔ اُن کے ناولوں میں تاریخ اور فکشن ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر چلنے کے لیے بعض اوقات ایک دوسرے سے دست و گریباں نظر آتے ہیں۔ابتدا میں رشیدہ رضویہ کے افسانوی مجموعے ’’شہر سلگتا ہے‘‘،’’کھنڈر کھنڈر بابل‘‘ (۱۹۵۹ء)کے نام سے سامنے آئے۔ بعد ازاں انہوں نے تین ناول لکھے:َ جن میں’’لڑکی ایک دل کے ویرانے میں‘‘ (۱۹۶۷ء) میں…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ بانو قدسیہ
بانو قدسیہ بانو قدسیہ ۸ ؍نومبر ۱۹۲۸ ء کے روز فیروز پور مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئیں۔ قیام پاکستان کے بعد والدین کے ساتھ لاہور منتقل ہوئیں۔ انہیں زیادہ شہرت اُن کے ناول ’’راجہ گدھ‘‘ سے ملی جو ادبی حلقوں میں زیرِ بحث رہتاہے مگر اُن کے کئی افسانوی مجموعے اشاعت پذیر ہوئے جن میں ناقابلِ ذکر، توجہ کی طالب(افسانوی کلیات)، امر بیل، باز گشت، کچھ اور نہیں، دانت کا دستہ، آتشِ زیرِ پااور دوسرا قدم، دوسرا دروازہ شامل بھی ہیں۔ اُن کا پہلا افسانہ’’وا ماندگیٔ شوق‘‘ ۱۹۵۰ء میں ادبِ…
Read Moreرشید امجد ۔۔۔ دشتِ تمنّا
خزانے کا خواب متوسط طبقے کے اکثر لوگوں کی طرح اسے بھی وراثت میں ملا تھا، پرانے گھر میں اس کے باپ نے بھی کئی جگہیں لکھ دی تھیں لیکن خزانہ تو نہ ملا گھر کی خستگی میں اضافہ ہوگیا۔ پھر اس نے یہ خواب دیکھنا چھوڑ دیا جو اسے اپنی ماں سے ورثے میں ملا تھا۔ عمر کے آخری دنوں میں وہ مایوس ہوگیا لیکن نہیں جانتا تھا کہ یہ خواب وراثت میں اس کے بیٹے کو منتقل ہوگیا ہے۔ وراثت میں منتقل ہونے کے لئے کچھ تھا بھی…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ خدیجہ مستور
خدیجہ مستور خدیجہ مستور اور قرۃ العین حیدر دو ایسی خواتین ہیں جن سے متعلق اگر یہ کہا جائے کہ ڈاکٹر رشید جہاں اور عصمت چغتائی کے بعد اُنہوں نے ایک عہد کو متاثر کیا تو چنداں غلط نہ ہو گا۔خدیجہ نے اوّل اوّل شعر گوئی کی کوشش بھی کی مگر اُس میں انہیں کامیابی نصیب نہ ہوئی کہ اللہ کریم نے انہیں ایک مختلف کلام کے لیے منتخب کیا تھا۔ اُن کے ناول ’’آنگن‘‘ اور ’’آگ کا دریا ‘‘ میں مشترک قدر یہ ہے کہ قرۃ العین نے ہندوستان…
Read More