رات ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔ تم کو پا لینے کی دُھن میں دُنیا اوڑھی رنگ برنگے کپڑے پہنے پیشانی پر سورج باندھا آنگن بھر میں دھوپ بچھائی دیواروں پر سبزہ ڈالا پھولوں، پتّوں سے اپنی چوکھٹ رنگوائی موسم آئے موسم بیتے سورج نکلا، دھوپ کھلی پھر دھوپ چڑھی پھر اور چڑھی پھر شام ہوئی پھر گہری کالی رات ہوئی! ………………………….. مجموعہ کلام: شاعری نہیں ہے یہ عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی ۲۰۱۱ء
Read MoreTag: Naveed Sadiq
لوہے کا کمر بند ۔۔۔ رام لعل
لوہے کا کمر بند ۔۔۔۔۔۔۔ بہت عرصہ گزرا کسی ملک میں ایک سوداگر رہتا تھا۔ اس کی بیوی بہت خوب صورت تھی۔ اتنی خوب صورت کہ اس کی محض ایک جھلک پانے کے لئے عاشق مزاج لوگ اس کی گلی کے چکر لگایا کرتے تھے۔ یہ بات سوداگر کو بھی معلوم تھی، اس لیے اس نے اپنی بیوی پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔ اس کی اجازت کے بغیر وہ کسی سے مل نہیں سکتی تھی۔ اس کے قریب قریب سارے ہی ملازم دراصل اس سوداگر کے خفیہ جاسوس…
Read Moreآشفتہ چنگیزی
ہم نے کبھی سنا تھا کہیں آس پاس ہیں کہرے میں اور دھند میں لپٹے ہوئے مکاں
Read Moreدِلی جو ایک شہر تھا ۔۔۔ محمد علوی
دِلّی جو ایک شہر تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جامع مسجد بُلاتی رہی میں نہ پہنچا تو سارا قلعہ مارے غصے کے لال ہو گیا نئی دِلی کی سڑکوں پہ پھرتی ہوئی لڑکیاں مجھ سے ملنے کی خواہش لیے، سو کو بالوں سے آزاد کر کے ننگے بدن، ننگے سر سو گئیں اور کیا کیا ہوا، یاد آتا نہیں! ہاں مگر یاد ہے، اب بھی اچھی طرح یاد ہے، چاندنی چوک میں رات کو دو بجے چومنا ایک کو ایک کا اک حماقت ۔۔۔۔ مگر پھر بھی کتنی حسیں! رات آئے تو پاتا…
Read Moreشہاب دہلوی
اُن کے تیور چڑھے ہوئے ہیں شہاب جو بھی بولے وہ سوچ کر بولے
Read Moreمیں ستارہ نہیں ۔۔۔ ازہر ندیم
میں ستارہ نہیں! ۔۔۔۔۔۔۔ میں ستارہ نہیں یہ مری روشنی میرے باطن میں اک ضو فشاں آگ کا نام ہے یہ مرے چار سو ایک ہالہ جو تم کو نظر آتا ہے اس کے مرکز کے اندر مری نظم ہے ایک تقدیس کے دائرے میں مسلسل چمکتی ہوئی یہ مرے روبرو جتنے اجسام ہیں ان پہ اُتری ہے لَو چاندنی کی طرح یہ مری زندگی جس میں تھی تیرگی ایسے تاباں ہوئی تختہِ خاک سے ہفت افلاک تک جس قدرتھے زمانے، درخشاں ہوۓ یہ مرے لفظ تھےاک محبت کی حدّت…
Read Moreکھلا تھا اک یہی رستہ تو اور کیا کرتا ۔۔ سید آلِ احمد
کُھلا تھا اِک یہی رستہ تو اور کیا کرتا نہ دیتا ساتھ ہَوا کا تو اور کیا کرتا بہت دنوں سے پریشان تھا جدائی میں جو اَب بھی تجھ سے نہ ملتا تو اور کیا کرتا نہ کوئی دشتِ تسلی‘ نہ ہے سکون کا شہر اُجالتا جو نہ صحرا تو اور کیا کرتا بشر تو آنکھ سے اندھا تھا، کان سے بہرہ تجھے صدا جو نہ دیتا تو اور کیا کرتا مرے سفر میں مَحبت کا سائبان نہ تھا بدن پہ دھوپ نہ مَلتا تو اور کیا کرتا ترے حضور…
Read Moreافضل خان کی غزل ۔۔۔ نوید صادق
افضل خان کی غزل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عہدِ جدید نے جہاں بہت سی آسانیاں پیدا کیں، وہاں نفسیاتی اُلجھنوں کو بھی جنم دیا، رواروی کو رواج دیا۔ فارسی غزل سے ہوتی ہوئی جو محبت ہماری غزل میں آن داخل ہوئی، اس کو محض ایک روایت یا نقالی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ایک انسانی تجربہ ہے جو ہر دور میں مختلف رہا ہے۔ اس میں مختلف عوامل دخیل رہے ہیں۔ میر کا عشق، غالب کا عشق، فراق کا عشق اور پھر ہمارے قریب کے عہد میں ناصر کاظمی کا عشق ۔۔۔…
Read Moreاسداللہ خان غالب
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا؟
Read Moreخورشید رضوی
وہ آ گیا تو جیسے سبزے میں جان آئی دوڑی رَمق ہَوا کی ساکت صنوبروں میں
Read More