مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے وہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے جس کی سانسوں سے مہکتے تھے در و بام ترے اے مکاں بول کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے اور اب کوئی کہیں کوئی کہیں رہتا ہے روز ملنے پہ بھی لگتا تھا کہ جگ بیت گئے عشق میں وقت کا احساس نہیں رہتا ہے دل فسردہ تو ہوا دیکھ کے اس کو لیکن عمر بھر کون جواں کون حسیں رہتا ہے
Read MoreTag: بہترین نظمیں
فانی بدایونی…. ابتدائے عشق ہے لطف شباب آنے کو ہے
ابتدائے عشق ہے، لطف شباب آنے کو ہے صبر رخصت ہو رہا ہے، اضطراب آنے کو ہے قبر پر کس شان سے وہ بے نقاب آنے کو ہے آفتاب صبح محشر ہم رکاب آنے کو ہے مجھ تک اس محفل میں پھر جام شراب آنے کو ہے عمر رفتہ پلٹی آتی ہے، شباب آنے کو ہے ہائے کیسی کشمکش ہے یاس بھی ہے آس بھی دم نکل جانے کو ہے، خط کا جواب آنے کو ہے خط کے پرزے نامہ بر کی لاش کے ہم راہ ہیں کس ڈھٹائی سے…
Read Moreرسا چغتائی ۔۔۔ کچھ نہ کچھ سوچتے رہا کیجے
کچھ نہ کچھ سوچتے رہا کیجے آسماں دیکھتے رہا کیجے چار دیواریٔ عناصر میں کودتے پھاندتے رہا کیجے اس تحیر کے کارخانے میں انگلیاں کاٹتے رہا کیجے کھڑکیاں بے سبب نہیں ہوتیں تاکتے جھانکتے رہا کیجے راستے خواب بھی دکھاتے ہیں نیند میں جاگتے رہا کیجے فصل ایسی نہیں جوانی کی دیکھتے بھالتے رہا کیجے آئنے بے جہت نہیں ہوتے عکس پہچانتے رہا کیجے زندگی اس طرح نہیں کٹتی فقط اندازتے رہا کیجے نا سپاسانِ علم کے سر پہ پگڑیاں باندھتے رہا کیجے
Read Moreہاجر دہلوی
ہاجر دہلوی (رگو ناتھ سنگھ) ہاجر دہلوی 30 اکتوبر 1884 کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان اصل نام رگھوناتھ سنگھ تھا۔ ہاجر کاخاندان دہلی کا ایک معزز اور علم دوست خاندان تھا۔ ہاجر کے دادا منشی سردار سنگھ عربی اور فارسی زبان کے جید عالم تھے، فارسی زبان میں شعر بھی کہتے تھے، حسیب تخلص کرتے تھے۔ ان کا فارسی شاعری کا ایک دیوان بھی شائع ہوا۔ حسیب نثر نگار بھی تھے۔ ’’روشنی‘‘ اور ’’خانہ آباد ‘‘ دو اسٹیج ڈرامے بھی لکھے۔ ہاجر کی ابتدائی تعلیم دہلی میں ہوئی۔ فارسی…
Read Moreہاجر دہلوی … جب کسی کا خیال آتا ہے
جب کسی کا خیال آتا ہے دل میں غم کا ابال آتا ہے یوں ہی فرقت میں عمر گزرے گی کب پیامِ وصال آتا ہے آپ باتوں میں ٹال دیتے ہیں وصل کا جب سوال آتا ہے کل جسے بزم سے نکالا تھا پھر وہی خستہ حال آتا ہے پھیکا پھیکا ہے چاند گردوں پر کون رشکِ ہلال آتا ہے ہائے اس بت نے بے وفائی کی صرف اتنا خیال آتا ہے دل لگی کے سوا تجھے‘ ہاجر! اور بھی کچھ کمال آتا ہے
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ ہوئے عشق میں امتحاں کیسے کیسے
ہوئے عشق میں امتحاں کیسے کیسے پڑے مرحلے درمیاں کیسے کیسے رہے دل میں وہم و گماں کیسے کیسے سَرا میں ٹِکے کارواں کیسے کیسے گھر اپنا غم و درد سمجھے ہیں دل کو بنے میزباں‘ میہماں کیسے کیسے شبِ ہجر باتیں ہیں دیوار و در سے ملے ہیں مجھے رازداں کیسے کیسے دکھاتا ہے دن رات آنکھوں کو میری سیاہ و سفید آسماں کیسے کیسے جو کعبے سے نکلے‘ جگہ دیر میں کی ملے ان بتوں کو مکاں کیسے کیسے فرشتے بھی گھائل ہیں تیرِ ادا کے نشانہ ہوئے…
Read Moreفیض رسول فیضان ۔۔۔۔ سلام
سلام کیا جلوہ کربلا میں دکھایا حسینؓ نے سجدے میں جا کے سر کو کٹایا حسینؓ نے خوش بخت تھا کہ آپ کے قدموں پہ آگرا سویا نصیب حُر کا جگایا حسینؓ نے نیزے پہ سر تھا اور زباں پر تھیں آیتیں قرآن اِس طرح بھی سنایا حسینؓ نے ناناؐ کے پاک نام پہ ہر چیز وار دی کچھ بھی نہ اپنے پاس بچایا حسینؓ نے صدمے سے قدسیوں کی بھی چیخیں نکل گئیں اصغرؓ کو جب گلے سے لگایا حسینؓ نے راہِ خدا میں جان کی بازی لگا گئے…
Read Moreرضا اللہ حیدر ۔۔۔ سلام
سلام میدانِ کربلا میں جو پیاسا حسین ہے دشمن کئی ہزار ہیں تنہا حسین ہے دو پھول خوش اصول ہیں باغِ رسولؐ کے اک خوش ادا حسن ہے تو دوجا حسین ہے اے خاکِ کربلا ترے ذروں کو چوم لوں تجھ پہ وطن سے دوری میں ، تڑپا حسین ہے میرا ہے یہ عقیدہ ، کہوں گا میں برملا سارے عدو ہی جھوٹے ہیں سچا حسین ہے خلدِ بریں میں شان ہے کیا شان آپ کی سب جنتی براتی ہیں دولھا حسین ہے چشمِ فلک تو دیکھ ، ہے زندہ…
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ رباعیات
رباعیات تخلیق کے لمحات میں آفاق آثار میری تمثال، میرے تمثال نگار یا غرفۂ شب میں اک مہکتا ہوا چاند یا پردۂ شام پر دہکتے انگار ۔۔۔ اب دُور نہیں کشتیِ جاں کی منزل مل جائے گا بحرِ آرزو کا ساحل دشت ِ سفرِ فراق تو کچھ بھی نہیں دوچار گھڑی کہیں بہل جا‘ اے دل! ۔۔۔ منزل تک مختصر سفر باقی ہے اے میری ہم سفر! سفر باقی ہے اے عمرِ رواں! کہیں ذرا سستا لے کچھ کم ہی سہی مگر سفر باقی ہے ۔۔۔ ہر عہد کے دامن…
Read Moreنعتِ رسولِ مقبول ؐ ۔۔۔۔ محمد افضال انجم
نعتِ رسولِ مقبول ؐ قلم کو مدحتِ خیرالانامؐ چاہیے ہے اسی میں قلب و نظر کو مقام چاہیے ہے خطاے عمر ِگزشتہ معاف ہو جائے درِ حضورؐ پہ وہ اہتمام چاہیے ہے طواف ِگنبد اخضر نگاہ کرتی رہے مجھے مدینہ میں ایسا مقام چاہیے ہے کبھی میں پیشِ رسالت مآبؐ ہو جائوں شمار انؐ کے غلاموں میں نام چاہیے ہے زبان ذکر کرے سرورِ دو عالمؐ کا یہی وظیفہ مجھے صبح شام چاہیے ہے وہ جن کے پائوں کی ٹھوکر پہ کہکشایئں ہیں مجھے تو انؐ پہ درود و سلام…
Read More