اَمّی کے لیے ۔۔۔ واجد امیر

اَمّی کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔ بدن اب سرد ہوتا جارہا ہے کوئی عہدِ گذشتہ آنے والی ساعتوں کی گرد ہوتا جارہا ہے لہو اب جم رہا ہے رگوں میں دوڑتا سیال آخر تھم رہا ہے زباں بے ذائقہ محلول سے مانوس کیسے ہو زباں! بے ربط جملوں اور پھر ٹوٹے ہوئے لفظوں سے آ گے کچھ نہیں کہتی زباں خاموش رہتی ہے کئی مہمل سوالوں کا جواب اک جنبشِ سر سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا یہ جب ہوتا ہے جب دل میں ارادہ کچھ نہیں ہوتا لبوں پر پپڑیاں سی جم…

Read More

خالی بالٹی ۔۔۔ حامد یزدانی

خالی بالٹی ۔۔۔۔۔۔۔ اب مجھے اُنہیں ڈھونڈنا ہے۔ سرکاری دورے کا آج آخری دن ہے۔ پچھلے چار دن میں مختلف رسمی ملاقاتوں اور باقاعدہ اجلاسوں میں کچھ یوں الجھا رہا کہ نہ تو قدم ڈھاکہ کی چند سرکاری عمارتوں کی سفید راہداریوں میں بھٹکتے تذبذب سے باہر نکل پائے اور نہ ہی ذہن اکڑی ہوئی کرسیوں کو کھینچ کرمستطیل میز کے قریب کرنے اور پھر گھسیٹ کر دُور کرنے کی دھیمی دھیمی گونج سے آزاد ہو پایا۔ ایک نو قائم شدہ ملک کے دارالحکومت میں مصروفیات کی ترتیب یا بے…

Read More

شاد عظیم آبادی

پچھلے پہر اُٹھ اُٹھ کے نمازیں، ناک رگڑنی ،سجدوں پہ سجدے جو نہیں جائز، اُس کی دُعائیں، اُف ری جوانی ہائے زمانے

Read More

جب طوفاں کے بیچ کنارہ ہو سکتا تھا ۔۔۔ منیر سیفی

جب طوفاں کے بیچ کنارہ ہو سکتا تھا دریا کے باہر بھی دھارا ہو سکتا تھا اِک دیوار گرانے، اِک پردہ اُٹھنے سے اندر باہر ایک نظارہ ہو سکتا تھا تاریکی کی قسمت بدلی جا سکتی تھی ہر بستی میں ایک ستارہ ہو سکتا تھا قریہ قریہ خاک اُڑائی جا سکتی تھی میری آنکھوں کا بٹوارا ہو سکتا تھا جاں دے کر سستے میں جان بچا لائے ہو ورنہ عشق میں اور خسارا ہو سکتا تھا کب تک رستہ خوشبوئوں کا روکے رہتے کب تک اپنا جسم گوارا ہو سکتا…

Read More

بازگشت ۔۔۔ منیر نیازی

بازگشت ۔۔۔۔۔ یہ صدا یہ صدائے بازگشت بے کراں وُسعت کی آوارہ پری سُست رَو جھیلوں کے پار نم زدہ پیڑوں کے پھیلے بازوئوں کے آس پاس ایک غم دیدہ پرند گیت گاتا ہے مِری ویران شاموں کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: تیز ہوا اور تنہا پھول    

Read More

پنجاب کا مقدمہ ۔۔۔ حنیف رامے

پنجاب کا مقدمہ حنیف رامے DOWNLOAD

Read More

آفتاب حسین

آفتاب! اپنے تصرف میں نہیں ہیں ہم لوگ لوگ احساس دِلا جاتے ہیں آ کر کیا کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: مطلع ناشر: سیمانت پرکاشن، کوچہ روہیلا خاں، دریا گنج، نئی دہلی سنِ اشاعت: ۱۹۹۹ء

Read More

ایک سوال ۔۔۔ مناظر عاشق ہرگانوی

ایک سوال ۔۔۔۔۔۔۔ ہوا کے تیز جھونکے سے شاخ اور پتیوں میں ٹھنی ہوئی ہے پودے اغل بغل کھڑے ہیں اندر کی عدالت کے فیصلے کے لیے! یہ فیصلہ آگ کا احساس ہے جسے بے دار کرنے کی ضرورت ہے جیسے کہ لکڑی کے پیروں پر کھڑا بانس کا آدمی پرندوں، جانوروں سے کھیتوں کی رکھوالی کر لیتا ہے کیا تم ایسا کر پاتے ہو؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شش ماہی "جدید اسلوب”، سہسرام شمارہ: ۳، ۴ جولائی ۱۹۹۷ء تا جون ۱۹۹۷ء مرتبین: شاہد جمیل، ڈاکٹر مظفر حسن عالی مقامِ اشاعت: بارہ دری،…

Read More

بچے ۔۔۔ پطرس بخاری

بچے ۔۔۔ یہ تو آپ جانتے ہیں کہ بچوں کی کئی قسمیں ہیں مثلاً بلی کے بچے ، فاختہ کے بچے وغیرہ۔ مگر میری مراد صرف انسان کے بچوں سے ہے، جن کی ظاہرا تو کئی قسمیں ہیں۔ کوئی پیارا بچہ ہے اور کوئی ننھا بچہ ہے، کوئی پھول سا بچہ ہے اور کوئی چاند سا بچہ ہے لیکن یہ سب اس وقت تک کی باتیں ہیں جب تک برخوردار پنگوڑے میں سویا پڑا ہے۔ جہاں بے دار ہونے پر بچے کے پانچوں حواس کام کرنے لگے، بچے نے ان…

Read More

احمد ندیم قاسمی

لچک سی جیسے لچکتی ہوئی صدا میں پڑے تِرا خرام جو دیکھا تو بَل ہوا میں پڑے

Read More