ابھی کم سن ہیں معلومات کتنی وہ کتنے اور اُن کی بات کتنی یہ میرے واسطے ہے بات کتنی وہ کہتے ہیں: تری اوقات کتنی سحر تک حال کیا ہو گا ہمارا خدا جانے ابھی ہے رات کتنی یہ سر ہے، یہ کلیجہ ہے، یہ دل ہے وہ لیں گے خیر سے خیرات کتنی توجہ سے کبھی سن لو مری بات جو تم چاہو تو یہ ہے بات کتنی طبیعت کیوں نہ اپنی مضمحل ہو رہی یہ موردِ آفات کتنی گلستاں فصلِ گل میں لُٹ رہا ہے حنا آئی تمھارے…
Read MoreTag: Urdu adab
امیر مینائی ۔۔۔ سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ
سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ شبِ فرقت کا جاگا ہوں، فرشتو! اب تو سونے دو کبھی فرصت میں کر لینا حساب، آہستہ آہستہ سوالِ وصل پر ان کو عدو کا خوف ہے اتنا دبے ہونٹوں سے دیتے ہیں جواب آہستہ آہستہ وہ بے دردی سے سر کاٹیں امیر اور میں کہوں اُن سے حضور آہستہ آہستہ، جناب آہستہ آہستہ
Read Moreعادل منصوری ۔۔۔ پانی کو پتھر کہتے ہیں
پانی کو پتھر کہتے ہیں کیا کچھ دیدہ ور کہتے ہیں خوش فہمی کی حد ہوتی ہیں خود کو دانشور کہتے ہیں کون لگی لپٹی رکھتا ہے ہم تیرے منہ پر کہتے ہیں ٹھیک ہی کہتے ہوں گے پھر تو جب یہ پروفیسر کہتے ہیں سب ان کو اندر سمجھے تھے وہ خود کو باہر کہتے ہیں تیرا اِس میں کیا جاتا ہے اپنے کھنڈر کو گھر کہتے ہیں نظم سمجھ میں کب آتی ہے دیکھ اس کو منتر کہتے ہیں
Read Moreعقیدت ۔۔۔ افتاب خان (ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023)
جینے کا مزا آئے سرکار کے سائے میں میں زیست گزاروں گا کردار کے سائے میں آقاؐ نے لگایا تھا اک باغ کھجوروں کا اے بخت وہیں لے چل اشجار کے سائے میں ہر وقت مرے لب پر بس اُنؐ کا درود آئے یہ عمر کٹے انؐ کے افکار کے سائے میں ہوتا ہے گزر ہر پل جنت کی ہواؤں کا بیٹھا ہی رہوں ان ؐکی دیوار کے سائے میں وہ دور صحابہؓ کا ذیشان و معزز تھا اے کاش میں رہتا اس دربار کے سائے میں جو دینِ محمدؐ…
Read Moreعرش ملسیانی
وہ مرد نہیں جو ڈر جائے ماحول کے خونی منظر سے اس حال میں جینا لازم ہے جس حال میں جینا مشکل ہے
Read Moreاصغر گورکھپوری … آنکھوں کی ندی سوکھ گئی پھر بھی ہرا ہے
آنکھوں کی ندی سوکھ گئی پھر بھی ہرا ہے وہ درد کا پودا جو مرے دل میں اُگا ہے جاں دے کے بھی چاہوں تو اسے پا نہ سکوں میں وہ چاند کا ٹکڑا جو دریچے میں جڑا ہے سیلاب ہیں چہروں کے تو آواز کے دریا یہ شہرِ تمنا تو نہیں دشت صدا ہے اصغر یہ سفر شوق کا اب کیسے کٹے گا جو ہم نے تراشا تھا وہ بت ٹوٹ گیا ہے
Read Moreمرزا آصف رسول ۔۔۔ کیفِ دروں (ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023 )
گلزار بخاری ۔۔۔ رباعیات (ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023 )
اللہ کے ہی اسم سے آغاز کریں الطاف و عنایات کا در باز کریں ہے ذات ازل سے وہی رحمان و رحیم اس کے ہی کرم سے سخن اعجاز کریں ……………… بندہ ہے خطاکار خطا کرتا ہے خالق ہے کریم اس کا پتا کرتا ہے دیتا نہیں اُڑنے کے لیے پَر خالی پرواز کی طاقت بھی عطا کرتا ہے ……………… کیا تھا وہ سفر صرف سفر کی خاطر مقصود رہا خیر و خبر کی خاطر معراجِ محمدؐ سے یہی درس ملا گردوں ہوا تسخیر بشر کی خاطر ……………… موجود و…
Read Moreحمد ۔۔۔ حسن عسکری کاظمی (ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023)
وہ پھول جو وجدان کے صحرا میں کھلا ہے اس پھول کی خوشبو کے تعاقب میں ہوا ہے کہیے کہ قریبِ رگِ جاں ہے وہی جاناں وہ شوخ ہے ایسا جسے دیکھا نہ سُنا ہے کلیوں کا تبسم بھی تو مسکان ہے اس کی دیکھا تو وہی پھول کے پردے میں چھپا ہے ادراک کی لہروں میں رواں ہے وہ ازل سے وہ خون میں شامل ہے مگر پھر بھی جدا ہے پہنچا ہے سرِ عرش تصور کا پرندہ یہ قوتِ پرواز بھی خالق کی عطا ہے یہ سوچ کے…
Read More