نہ شب و روز ہی بدلے ہیں نہ حال اچھا ہے کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے ہم کہ دونوں کے گرفتار رہے‘ جانتے ہیں دامِ دنیا سے کہیں زلف کا جال اچھا ہے میں نے پوچھا تھا کہ آخر یہ تغافل کب تک مسکراتے ہوئے بولے کہ سوال اچھا ہے لذتیں قرب و جدائی کی ہیں اپنی اپنی مستقل ہجر ہی اچھا نہ وصال اچھا ہے رہروانِ رہِ الفت کا مقدر معلوم ان کا آغاز ہی اچھا نہ مآل اچھا ہے دوستی اپنی جگہ پر…
Read MoreMonth: 2023 اگست
عدیم ہاشمی
کیوں پرکھتے ہو سوالوں سے جوابوں کو عدیم ہونٹ اچھے ہوں تو سمجھو کہ سوال اچھا ہے
Read Moreعدیم ہاشمی ۔۔۔ راحتِ جاں سے تو یہ دل کا وبال اچھا ہے
راحتِ جاں سے تو یہ دل کا وبال اچھا ہے اس نے پوچھا تو ہے اتنا ترا حال اچھا ہے ماہ اچھا ہے بہت ہی نہ یہ سال اچھا ہے پھر بھی ہر ایک سے کہتا ہوں کہ حال اچھا ہے ترے آنے سے کوئی ہوش رہے یا نہ رہے اب تلک تو ترے بیمار کا حال اچھا ہے یہ بھی ممکن ہے تری بات ہی بن جائے کوئی اسے دے دے کوئی اچھی سی مثال اچھا ہے دائیں رخسار پہ آتش کی چمک وجہِ جمال بائیں رخسار کی آغوش…
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ خود بہ خود آنکھ بدل کر یہ سوال اچھا ہے
خود بہ خود آنکھ بدل کر یہ سوال اچھا ہے روز کب تک کوئی پوچھا کرے حال اچھا ہے ہجر میں عیشِ گزشتہ کا خیال اچھا ہے ہو جھلک جس میں خوشی کی وہ مآل اچھا ہے داغ بہتر ہے وہی ہو جو دلِ عاشق میں جو ر ہے عارضِ خوباں پہ وہ خال اچھا ہے دیکھ ان خاک کے پتلوں کی ادائیں زاہد ان سے کس بات میں حوروں کا جمال اچھا ہے کیجیے اور بھی شکوے کہ مٹے دل کا غبار باتوں باتوں میں نکل جائے‘ ملال اچھا…
Read Moreداغ دہلوی
آپ پچھتائیں نہیں جور سے توبہ نہ کریں آپ کے سر کی قسم داغ کا حال اچھا ہے
Read Moreاثر رامپوری ۔۔۔ وہ ان کا حجاب اور نزاکت کے نظارے
وہ ان کا حجاب اور نزاکت کے نظارے آئے وہ شب وعدہ تصور کے سہارے وہ کالی گھٹا اور وہ بڑھتے ہوئے دھارے زاہد بھی اگر دیکھے تو ساقی کو پکارے وہ جلوہ گہ ناز وہ مخمور نگاہیں اب کیا کہوں یہ لمحے کہاں میں نے گزارے خود حسن کا معیار ترا ذوق نظر ہیں اتنے ہی حسیں آپ ہیں جتنے مجھے پیارے بے وجہ نہیں حسن کی تنویر میں تابش وہ دیتے ہیں خاکستر الفت کے شرارے تم چاہو تو دو لفظوں میں طے ہوتے ہیں جھگڑے کچھ شکوے…
Read Moreقابل اجمیری
مجھی پہ ختم ہیں سارے ترانے شکستِ ساز کی آواز ہوں میں
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔۔ پروین فنا سید
پروین فنا سید پروین فنا سید ایک ایسی شاعرہ تھیں جنہوں نے جدت کے نام پر شعری بدعتیں قبول نہیں تھیں۔ لہٰذا اُن کی شاعری اعتدال، انسان دوستی، حسن و جمال اور اعتماد کی شاعری ہے۔اُن کا پہلامجموعۂ کلام ’’حرفِ وفا‘‘ اُن کی بیس برس کی شعری ریاضت کے بعد منظرِ عام پر آیا۔ کتاب کافلیپ تحریر کرتے ہوئے احمد ندیم قاسمی نے لکھا: ’’پروین فنا سیّد کی شاعری عفتِ فکر اور پاکیزگیِ احساس کی شاعری ہے۔غزل کی سی صنفِ شعر میں بھی جس میں اکثر شاعروں نے علامت اور…
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ کل رات سونی چھت پہ عجب سانحہ ہوا
کل رات سونی چھت پہ عجب سانحہ ہوا جانے دو یار کون بتائے کہ کیا ہوا نظروں سے ناپتا ہے سمندر کی وسعتیں ساحل پہ اک شخص اکیلا کھڑا ہوا لمبی سڑک پہ دور تلک کوئی بھی نہ تھا پلکیں جھپک رہا تھا دریچہ کھلا ہوا مانا کہ تو ذہین بھی ہے خوب رو بھی ہے تجھ سا نہ میں ہوا تو بھلا کیا برا ہوا دن ڈھل رہا تھا جب اسے دفنا کے آئے تھے سورج بھی تھا ملول زمیں پر جھکا ہوا کیا ظلم ہے کہ شہر میں…
Read Moreقابل اجمیری
ہم بے کسوں کی بزم میں آئے گا اور کون آ بیٹھتی ہے گردشِ دوراں کبھی کبھی
Read More