بے خودی میں پہلوئے اقرار پہلے تو نہ تھا اتنا غافل وہ بُتِ عیار پہلے تو نہ تھا
Read MoreTag: Urdu ghazal
قتیل شفائی
چاندی جیسا رنگ ہے تیرا سونے جیسے بال اک تو ہی دھنوان ہے گوری باقی سب کنگال
Read Moreقتیل شفائی
فرازِ بے خودی سے تیرا تشنہ لب نہیں اترا ابھی تک اس کی آنکھوں سے خمارِ شب نہیں اترا
Read Moreبشر نواز
جو بھی آتا ہے وہی دل میں سما جاتا ہے کتنے دریاؤں کا پیاسا ہے سمندر میرا
Read Moreپروین شاکر ۔۔۔ نئے سال کی پہلی نظم
اندیشوں کے دروازوں پر کوئی نشان لگاتا ہے اور راتوں رات تمام گھروں پر وہی سیاہی پھر جاتی ہے دکھ کا شب خوں روز اُدھورا رہ جاتا ہے اور شناخت کا لمحہ بیتتا جاتا ہے میں اور میرا شہرِ محبت تاریکی کی چادر اوڑھے روشنی کی آہٹ پر کان لگائے کب سے بیٹھے ہیں گھوڑوں کی ٹاپوں کو سنتے رہتے ہیں حدِ سماعت سے آگے جانے والی آوازوں کے ریشم سے اپنی روئے سیاہ پہ تارے کاڑھتے رہتے ہیں انگشتا نے اک اک کر کے چھلنی ہونے کو آئے اب…
Read Moreفہمیدہ ریاض ۔۔۔ اب سو جاؤ
اب سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو تم چاند سے ماتھے والے ہو اور اچھی قسمت رکھتے ہو بچے کی سی بھولی صورت اب تک ضد کرنے کی عادت کچھ کھوئی کھوئی سی باتیں کچھ سینے میں چبھتی یادیں اب انھیں بھلا دو، سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو سو جاؤ تم شہزادے ہو اور کتنے ڈھیروں پیارے ہو اچھا تو کوئی اور بھی تھی اچھا پھر بات کہاں نکلی کچھ اور بھی یادیں بچپن کی کچھ اپنے گھر کے…
Read Moreحفیظ جالندھری ۔۔۔ ابھی تو میں جوان ہوں
ہَوا بھی خوش گوار ہے گلوں پہ بھی نکھار ہے ترنمِ ہزار ہے بہار پر بہار ہے کہاں چلا ہے ساقیا ادھر تو لوٹ، ادھر تو آ ارے یہ دیکھتا ہے کیا اٹھا سبو، سبو اٹھا سبو اٹھا، پیالہ بھر پیالہ بھر کے دے ادھر چمن کی سمت کر نظر سماں تو دیکھ، بے خبر! وہ کالی کالی بدلیاں افق پہ ہو گئیں عیاں وہ اک ہجومِ مے کشاں ہے سوئے مے کدہ رواں یہ کیا گماں ہے بد گماں سمجھ نہ مجھ کو ناتواں خیالِ زہد ابھی کہاں ابھی…
Read Moreساقی فاروقی ۔۔۔ سرخ گلاب اور بدر منیر
اے دل! پہلے بھی تنہا تھے، اے دل! ہم تنہا آج بھی ہیں اور ان زخموں اور داغوں سے اب اپنی باتیں ہوتی ہیں جو زخم کہ سرخ گلاب ہوئے، جو داغ کہ بدر منیر ہوئے اس طرح سے کب تک جینا ہے، میں ہار گیا اس جینے سے کوئی ابر اُڑے کسی قلزم سے، رس برسے مرے ویرانے پر کوئی جاگتا ہو، کوئی کڑھتا ہو مرے دیر سے واپس آنے پر کوئی سانس بھرے مرے پہلو میں، کوئی ہاتھ دھرے مرے شانے پر اور دبے دبے لہجے میں کہے:…
Read Moreاحمد ندیم قاسمی ۔۔۔ جنگل کی آگ
آگ جنگل میں لگی تھی لیکن بستیوں میں بھی دھواں جا پہنچا ایک اڑتی ہوئی چنگاری کا سایہ پھیلا تو کہاں جا پہنچا تنگ گلیوں میں اُمڈتے ہوئے لوگ گو بچا لائے ہیں جانیں اپنی اپنے سر پر ہیں جنازے اپنے اپنے ہاتھوں میں زبانیں اپنی آگ جب تک نہ بُجھے جنگل کی بستیوں تک کوئی جاتا ہی نہیں حسنِ اشجار کے متوالوں کو حسنِ انساں نظر آتا ہی نہیں
Read Moreآشفتہ چنگیزی ۔۔۔ خدا کی جگہ خالی ہے
شنکر ڈمرو کا متبادل تلاش کر چکا گوپیاں اب کسی اودھو کی محتاج نہیں ٹرنک کال ان کی سمسیاؤں کا حل ہے عزرائیل! ایٹم اور ہیلیم کے حق میں دست بردار ہونے کی فکر میں ہے اسرافیل کی جمالیاتی حس کو جلا مل گئی اب وہ کسی میوزک اسکول میں داخلہ لے لے گا فوڈ کارپوریشن کا مطالبہ: ‘میکائیل کا رٹائرمنٹ’ مان لیا گیا ہے وائرلس ٹیلی گراف کا محکمہ افسرِ اعلی کے عہدہ کے لیے جبرئیل کی درخواست پر غور کر رہا ہے ‘خدا کی جگہ خالی ہے، متمنی…
Read More