خواہش کو مہمان کرو گے اپنا ہی نقصان کرو گے ساری بستی مرنا چاہے کس کس پر احسان کرو گے! اب کس کی باری ہے صاحب! اب کس کو حیران کرو گے؟ کب تک اور پرکھنا ہم کو کب تک اطمینان کرو گے مَیں تو مٹّی ہو جائوں گا تم کیا میری جان کرو گے؟ جو بھی کام کرو گے سیفی! خارج اَز اِمکان کرو گے ………………………….. مجموعہ کلام: الست کاغذی پیرہن، لاہور اکتوبر ۲۰۰۴ء
Read MoreTag: سورج
خالی بالٹی ۔۔۔ حامد یزدانی
خالی بالٹی ۔۔۔۔۔۔۔ اب مجھے اُنہیں ڈھونڈنا ہے۔ سرکاری دورے کا آج آخری دن ہے۔ پچھلے چار دن میں مختلف رسمی ملاقاتوں اور باقاعدہ اجلاسوں میں کچھ یوں الجھا رہا کہ نہ تو قدم ڈھاکہ کی چند سرکاری عمارتوں کی سفید راہداریوں میں بھٹکتے تذبذب سے باہر نکل پائے اور نہ ہی ذہن اکڑی ہوئی کرسیوں کو کھینچ کرمستطیل میز کے قریب کرنے اور پھر گھسیٹ کر دُور کرنے کی دھیمی دھیمی گونج سے آزاد ہو پایا۔ ایک نو قائم شدہ ملک کے دارالحکومت میں مصروفیات کی ترتیب یا بے…
Read Moreتنہا تنہا ۔۔۔ حمایت علی شاعر
تنہا تنہا ۔۔۔۔ میں بہت تھک گیا ہوں یہ کٹھن راستہ مجھ سے اب طے نہ ہو گا یہ تمازت، یہ ویراں خموشی جو ازل سے مری ہم سفر ہے آج زنجیرِ پا بن گئی ہے یہ ہوا جس کے دامن میں بکھری ہوئی خاک ہے ۔۔۔ یا کہ سورج کی جھڑتی ہوئی راکھ ہے۔۔۔ میرے رستے میں دیوار سی بن گئی ہے میں بہت تھک گیا ہوں ایک پتھر کے مانند افتادہ ۔۔۔ چپ چاپ بیٹھا ہوا سوچتا ہوں میرے اطراف ہر چیز ٹھہری ہوئی ہے پیڑ، سورج، پہاڑ…
Read Moreخوابِ یوسف ! ۔۔۔ علی اصغر عباس
خوابِ یوسف ! ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے روشنی کی ضرورت سے باندھا گیا اور آنکھوں میں نور بھر کے دو نقطے تارِ تجلی کی ضوباریوں سے یوں گانٹھے گئے کہ وہ مہر و مہ کی رداے تحیر ّمیں لپٹے اجالےکی کومل گرہ دار کرنوں سے تاروں کے ٹانکے لگیں درخشانیوں نے سمندر کی تہ میں گرے چاند سورج کی تاب و تواں کی خبر پہاڑوں کی تابندہ برفوں کو دی تو رخشاں ہوائوں کے جھکڑ چلے آن کی آن میں کوہِ گماں پہ ٹکی آنکھ میں خوابِ یوسف ہویدا ہوا چاند، سورج،…
Read Moreتنہا تنہا …… حمایت علی شاعر
تنہا تنہا …….. میں بہت تھک گیا ہوں یہ کٹھن راستہ مجھ سے اب طے نہ ہو گا یہ تمازت، یہ ویراں خموشی جو ازل سے مری ہم سفر ہے آج زنجیرِ پا بن گئی ہے یہ ہوا جس کے دامن میں بکھری ہوئی خاک ہے یا کہ سورج کی جھڑتی ہوئی راکھ ہے میرے رستے میں دیوار سی بن گئی ہے میں بہت تھک گیا ہوں ایک پتھر کے مانند افتادہ چپ چاپ بیٹھا ہوا سوچتا ہوں میرے اطراف ہر چیز ٹھہری ہوئی ہے پیڑ، سورج، پہاڑ۔۔۔آسماں اس جہاں…
Read Moreموت کے تعاقب میں ۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹرغافرشہزاد
موت کے تعاقب میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس وقت دفتر میں تھا کہ جب اسے بیوی نے ٹیلیفون پر اطلاع دی کہ اس کی دس ماہ کی بیٹی کی طبیعت خراب ہے، اور اسے رک رک کر سانس آ رہا ہے۔ یہ خبر اس کے لیے خلاف توقع نہ تھی۔ وہ صبح سے بار بار اپنے موبائل فون کی سکرین کی جانب دیکھتا تھا کہ جب وہ روشن ہو جاتی۔ دو تین ایس ایم ایس اس کے دوستوں کی جانب سے تھے جنھوں نے اسے دو دن بعد آنے والی عید…
Read Moreنئی صبح ۔۔۔۔ اختر الایمان
نئی صبح ۔۔۔۔۔۔۔ کالے ساگر کی موجوں میں ڈوب گئیں دھندلی آشائیں جلنے دو یہ دیے پرانے خود ہی ٹھنڈے ہو جائیں گے بہہ جائیں گے آنسو بن کر روتے روتے سو جائیں گے اندھے سایوں میں پلتے ہیں مبہم سے غمگین فسانے دکھ کی اک دیوار سے آ کر ٹکرا جاتے ہیں پروانے دورِ فسردہ کی انگڑائی لَے بن بن کر ٹوٹ رہی ہے سرخ زباں کی نازک لَو پر جاگ رہی ہے ایک کہانی ٹوٹے پھوٹے جام پڑے ہیں سوئی سوئی ہے کچھ محفل دھوپ سی ڈھل…
Read More