رباعیات تخلیق کے لمحات میں آفاق آثار میری تمثال، میرے تمثال نگار یا غرفۂ شب میں اک مہکتا ہوا چاند یا پردۂ شام پر دہکتے انگار ۔۔۔ اب دُور نہیں کشتیِ جاں کی منزل مل جائے گا بحرِ آرزو کا ساحل دشت ِ سفرِ فراق تو کچھ بھی نہیں دوچار گھڑی کہیں بہل جا‘ اے دل! ۔۔۔ منزل تک مختصر سفر باقی ہے اے میری ہم سفر! سفر باقی ہے اے عمرِ رواں! کہیں ذرا سستا لے کچھ کم ہی سہی مگر سفر باقی ہے ۔۔۔ ہر عہد کے دامن…
Read MoreTag: اردو نظم
عاصم بخاری ۔۔۔ قطعات
تکبر کام آتے نہیں ، بڑے دعوے بَڑ،جوماریںوہ منہ کی کھاتے ہیں شاملِ حال ہو ، تکبر تو ’’ ٹائی ٹَینِک‘‘بھی ڈوب جاتے ہیں فادر ڈے ویسے حیرت تو اس پہ بنتی ہے آپ ناراض ہو ، نہ جائیں تو اہلِ مغرب کے ہی ، بتانے پر ’’ باپ کا یوم ‘‘، ہم منائیں تو رخ تتلیاں پھول کب سدا بھنورے جلوے رہتے نہیں ، اداؤں کے بات یہ ذہن میں ، مری رکھنا رخ بدلتے بھی ہیں ہواؤں کے لبادے روپ سارے یہ دنیا ، داری کے دلِ نادان…
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ ہے خیال تنک ہم بھی رُوسیاہوں کا
رہے خیال تنک ہم بھی رُوسیاہوں کا لگے ہو خون بہت کرنے بے گناہوں کا نہیں ستارے یہ سوراخ پڑگئے ہیں تمام فلک حریف ہوا تھا ہماری آہوں کا گلی میں اُس کی پھٹے کپڑوں پر مرے مت جا لباسِ فقر ہے واں فخر بادشاہوں کا تمام زلف کے کوچے ہیں مارِ پیچ اُس کی تجھی کو آوے دِلا! چلنا ایسی راہوں کا کہاں سے تہ کریں پیدا یہ ناظمانِ حال کہ کوچ بافی ہی ہے کام ان جلاہوں کا حساب کا ہے کا روزِ شمار میں مجھ سے شمار…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ بھلا اپنے نالوں کی مجھ کو خبر کیا شبِ غم ہوئی تھی کہاں تک رسائی
بھلا اپنے نالوں کی مجھ کو خبر کیا شبِ غم ہوئی تھی کہاں تک رسائی مگر یہ عدو کی زبانی سنا ہے بڑی مشکلوں سے تمہیں نیند آئی شبِ وعدہ اول تو آتے نہیں تھے جو آئے بھی تو رات ایسی گنوائی کبھی رات کو تم نے گیسو سنوارے کبھی رات کو تم نے مہندی لگائی گلہ بے وفائی کا کس سے کریں ہم ہمارا گلہ کوئی سنتا نہیں ہے خدا تم کو رکھے جوانی کے دن ہیں تمھارا زمانہ تمھاری خدائی ہر اک نے دیے میرے اشکوں پہ طعنے…
Read Moreمرزا اسداللہ خاں غالب ۔۔۔ غزل
بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا رکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا اِس تکلف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب آستیں میں دشنہ پنہاں ، ہاتھ میں نشتر کھلا گو نہ سمجھوں اس کی باتیں ، گونہ پاؤں اس کا بھید پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا ہے خیالِ حُسن میں حُسنِ عمل کا سا خیال خلد کا اک در ہے میری گور کے…
Read Moreامیر مینائی
قریب ہے یارو روزِ محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیوں کر جو چُپ رہے گی زبانِ خنجر لہو پکارے گا آستیں کا
Read Moreخاور اعجاز ۔۔۔ کچھ دیر ٹھہر
کچھ دیر ٹھہر ۔۔۔۔۔ زمانے! گلی میں صدا تُو نے دی ہے تو بستی میں کہرام سا مچ گیا ہے شبِ تار میں جگنوؤں کی قطاریں اندھیرے کی دیوار میں دَر بنانے کی کوشش میں ہیں تیرگی منہ چھپاتی ہُوئی پھِر رہی ہے کئی روز سے رات ٹھہری ہُوئی تھی مگر تُو نے آواز دی تو یہ منظر بدلنے لگا ہے مِرا قافلہ پھِر سے چلنے لگا ہے مگر ٹمٹماتے ہُوئے جگنوؤں کی قطاروں سے سورج اُبھرنے میں کچھ دیر ہے میری مٹی سنورنے میں کچھ دیر ہے بیٹھ جا…
Read Moreنعتِ رسولِ مقبول ؐ ۔۔۔۔ محمد افضال انجم
نعتِ رسولِ مقبول ؐ قلم کو مدحتِ خیرالانامؐ چاہیے ہے اسی میں قلب و نظر کو مقام چاہیے ہے خطاے عمر ِگزشتہ معاف ہو جائے درِ حضورؐ پہ وہ اہتمام چاہیے ہے طواف ِگنبد اخضر نگاہ کرتی رہے مجھے مدینہ میں ایسا مقام چاہیے ہے کبھی میں پیشِ رسالت مآبؐ ہو جائوں شمار انؐ کے غلاموں میں نام چاہیے ہے زبان ذکر کرے سرورِ دو عالمؐ کا یہی وظیفہ مجھے صبح شام چاہیے ہے وہ جن کے پائوں کی ٹھوکر پہ کہکشایئں ہیں مجھے تو انؐ پہ درود و سلام…
Read Moreسلام بحضور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ … سعید راجہ
پہلے پہل عجب لگی ہجرت حسین کی پھر مجھ کو یاد آ گئی نسبت حسین کی تھا اذن بھی, چراغ بھی گل کر دیئے گئے چھوڑی نہیں کسی نے رفاقت حسین کی کردار شرطِ خاص ہے انکار کیلئے اس کی کھری مثال ہے سیرت حسین کی کربل کی سرخ ریت پہ سجدہ ادا کیا بے مثل ہو گئی ہے عبادت حسین کی آنکھیں تو ہیں نگاہِ بصیرت کوئی نہیں کھلتی کسی پہ خاک حقیقت حسین کی ہر اک لہو کی بوند پہ لکھا ہے ان کا نام روشن ہے میرے…
Read Moreرانا سعید دوشی ۔۔۔ اہتمام
اہتمام ۔۔۔۔۔ جمالے! او جمالے! وہ بھوری بھینس جس نے مولوی کو سینگ مارا تھا گلی سے کھول کر ڈیرے پہ لے جا شکورے! بھینس کی کھُرلی کو رستے سے ہٹا دے پھاوڑے سے سارا گوھیا میل کے کھیتوں میں لے جا نذیراں! جا ذرا ویہڑے میں بھی جھاڑو لگا دے سُن! یہ ساری چھانگ بیری کی اُٹھا لے جا جلا لینا، غلامے یار! یہ ۔۔۔ کیکر کے کنڈے ۔۔۔۔ چھوڑ ۔۔۔ میں خود ہی اُٹھا لوں گا تُو ایسا کر ۔۔۔ حویلی میں جو ”موتی“ اور ”ڈبُّو“ پھر رہے…
Read More