جب تلک آنکھ کو لگایا نہیں وہ مرے خواب تک میں آیا نہیں اس لیے ٹھیک دیکھ سکتا ہوں آنکھ کو بے سبب بہایا نہیں کھلی آنکھوں سے خواب دیکھتا ہوں نیند کو میں نے آزمایا نہیں تُو مرے ساتھ ساتھ رہتا ہے تُو مرا دوست ہے، تُو سایا نہیں صاف سیدھی لکیر کھینچتا ہوں سانپ کو ہاتھ تک لگایا نہیں بات کی تہہ میں تھا پہنچنا مجھے اس لیے بات کو گھمایا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہ نامہ فانوس، لاہور جلد: ۵۸، شمارہ: ۷ جولائی ۲۰۱۸ء
Read MoreTag: لاہور
اَمّی کے لیے ۔۔۔ واجد امیر
اَمّی کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔ بدن اب سرد ہوتا جارہا ہے کوئی عہدِ گذشتہ آنے والی ساعتوں کی گرد ہوتا جارہا ہے لہو اب جم رہا ہے رگوں میں دوڑتا سیال آخر تھم رہا ہے زباں بے ذائقہ محلول سے مانوس کیسے ہو زباں! بے ربط جملوں اور پھر ٹوٹے ہوئے لفظوں سے آ گے کچھ نہیں کہتی زباں خاموش رہتی ہے کئی مہمل سوالوں کا جواب اک جنبشِ سر سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا یہ جب ہوتا ہے جب دل میں ارادہ کچھ نہیں ہوتا لبوں پر پپڑیاں سی جم…
Read Moreخالی بالٹی ۔۔۔ حامد یزدانی
خالی بالٹی ۔۔۔۔۔۔۔ اب مجھے اُنہیں ڈھونڈنا ہے۔ سرکاری دورے کا آج آخری دن ہے۔ پچھلے چار دن میں مختلف رسمی ملاقاتوں اور باقاعدہ اجلاسوں میں کچھ یوں الجھا رہا کہ نہ تو قدم ڈھاکہ کی چند سرکاری عمارتوں کی سفید راہداریوں میں بھٹکتے تذبذب سے باہر نکل پائے اور نہ ہی ذہن اکڑی ہوئی کرسیوں کو کھینچ کرمستطیل میز کے قریب کرنے اور پھر گھسیٹ کر دُور کرنے کی دھیمی دھیمی گونج سے آزاد ہو پایا۔ ایک نو قائم شدہ ملک کے دارالحکومت میں مصروفیات کی ترتیب یا بے…
Read Moreبچے ۔۔۔ پطرس بخاری
بچے ۔۔۔ یہ تو آپ جانتے ہیں کہ بچوں کی کئی قسمیں ہیں مثلاً بلی کے بچے ، فاختہ کے بچے وغیرہ۔ مگر میری مراد صرف انسان کے بچوں سے ہے، جن کی ظاہرا تو کئی قسمیں ہیں۔ کوئی پیارا بچہ ہے اور کوئی ننھا بچہ ہے، کوئی پھول سا بچہ ہے اور کوئی چاند سا بچہ ہے لیکن یہ سب اس وقت تک کی باتیں ہیں جب تک برخوردار پنگوڑے میں سویا پڑا ہے۔ جہاں بے دار ہونے پر بچے کے پانچوں حواس کام کرنے لگے، بچے نے ان…
Read Moreجہاں کچھ لوگ دیوانے بنے ہیں ۔۔۔ یزدانی جالندھری
جہاں کچھ لوگ دیوانے بنے ہیں بڑے دل چسپ افسانے بنے ہیں حقیقت کچھ تو ہوتی ہے یقیناً کہیں جھوٹے بھی افسانے بنے ہیں بہت نازاں تھے جو فرزانگی پر اُنھیں دیکھا تو دیوانے بنے ہیں اِک اندازِ نظر کی آزری سے دلوں میں کتنے بُت خانے بنے ہیں جو شعلہ، شمع کے دل میں ہے روشن اُسی شعلے سے پروانے بنے ہیں یہ کس ساقی کا فیضانِ نظر ہے چمن میں پھول، پیمانے بنے ہیں قیامت تھا مرا محفل سے اُٹھنا نہ جانے کتنے افسانے بنے ہیں مری دیوانگی…
Read Moreاعتماد ۔۔۔ اخترالایمان
اعتماد ۔۔۔۔ بولی خود سر ہَوا: ایک ذرّہ ہے تُو یوں اُڑا دوں گی مَیں، موجِ دریا بڑھی بولی: میرے لیے ایک تنکا ہے تُو یوں بہا دوں گی مَیں، آتشِ تند کی اک لپٹ نے کہا: مَیں جلا ڈالوں گی اور زمیں نے کہا: مَیں نگل جائوں گی مَیں نے چہرے سے اپنے اُلٹ دی نقاب اور ہنس کر کہا: مَیں سلیمان ہوں ابنِ آدم ہوں مَیں، یعنی انسان ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: آب جو نیا ادارہ, لاہور
Read Moreعباس تابش
مصروف ہیں کچھ اتنے کہ ہم کارِ محبت آغاز تو کر لیتے ہیں، جاری نہیں رکھتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عشق آباد (کلیات) الحمد پبلی کیشنز، لاہور اشاعت: فروری ۲۰۱۱ء
Read Moreوہ جب رونا بھول گیا تھا ۔۔۔ منیر سیفی
وہ جب رونا بھول گیا تھا دریا رستہ بھول گیا تھا مٹی تھی میثاق پہ قائم پانی وعدہ بھول گیا تھا صرف اک صورت یاد رہی تھی باقی دنیا بھول گیا تھا آئینہ تو لے آیا تھا چہرہ لانا بھول گیا تھا جاں بخشی بھی ہو سکتی تھی مَیں، چُپ رہنا بھول گیا تھا یوں تو اک آواز تھا مَیں بھی لوٹ کے آنا بھول گیا تھا ایک دیا تھا مَیں بھی لیکن جل کر بجھنا بھول گیا تھا بستے میں ہر شے رکھی تھی بچپن رکھنا بھول گیا تھا…
Read Moreکھلا تھا اک یہی رستہ تو اور کیا کرتا ۔۔ سید آلِ احمد
کُھلا تھا اِک یہی رستہ تو اور کیا کرتا نہ دیتا ساتھ ہَوا کا تو اور کیا کرتا بہت دنوں سے پریشان تھا جدائی میں جو اَب بھی تجھ سے نہ ملتا تو اور کیا کرتا نہ کوئی دشتِ تسلی‘ نہ ہے سکون کا شہر اُجالتا جو نہ صحرا تو اور کیا کرتا بشر تو آنکھ سے اندھا تھا، کان سے بہرہ تجھے صدا جو نہ دیتا تو اور کیا کرتا مرے سفر میں مَحبت کا سائبان نہ تھا بدن پہ دھوپ نہ مَلتا تو اور کیا کرتا ترے حضور…
Read Moreﺑﻦ ﻣﯿﮟ ﻭﯾﺮﺍﮞ ﺗﮭﯽ ﻧﻈﺮ، ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﻝ ﺭﻭﺗﺎ ﮨﮯ ۔۔۔ غلام محمد قاصر
بَن میں ویراں تھی نظر، شہر میں دل روتا ہے زندگی سے یہ مِرا دوسرا سمجھوتہ ہے لہلہاتے ہوئے خوابوں سے مری آنکھوں تک رت جگے کاشت نہ کرلے تو وہ کب سوتا ہے جس کو اس فصل میں ہونا ہے برابر کا شریک میرے احساس میں تنہائیاں کیوں بوتا ہے نام لکھ لکھ کے تِرا، پھول بنانے والا آج پھر شبنمیں آنکھوں سے ورق دھوتا ہے تیرے بخشے ہوئے اک غم کا کرشمہ ہے کہ اب جو بھی غم ہو مرے معیار سے کم ہوتا ہے سوگئے شہرِ محبت…
Read More