مکان عشق نے ایسی جگہ بنا لیا تھا ۔۔۔ حسن عباس رضا

مکان، عشق نے ایسی جگہ بنا لیا تھا کہ مجھ کو گھر سے نکلتے ہی اُس نے آ لیا تھا میں جانتا تھا کہ ضدی ہے پرلے درجے کا سو، ہار مان کے میں نے اسے منا لیا تھا یہ میرا دل ہے مگر میری مانتا ہی نہیں گذشتہ رات اسے میں نے آزما لیا تھا خبر ملی مجھے جیسے ہی اُس کے آنے کی نگاہ در پہ رکھی، اور دیا جلا لیا تھا جو دل کا حال تھا، ہم نے بڑے سلیقے سے غزل بہانہ کیا اور اُسے سنا…

Read More

ایک دن بارش کے ساتھ !!! ۔۔۔ نصیر احمد ناصر

ایک دن بارش کے ساتھ !!! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بارش، اے بارش! کتنی اچّھی ہے تُو کس موسم کی بیٹی ہے تُو صوتِ غِنا ہے، ققنس پیدا کرتی ہے، موسیقی ہے تُو تیرے گیت کی لَے پر لفظ مِرے رقصیدہ ہیں جھوم جھوم کے لکھتا ہوں ہاتھ بڑھا کے بادل کو کھڑکی تک لے آتا ہوں تجھ کو باتوں میں لگا کر جھیلیں، دریا اور سمندر نظموں میں بھر لاتا ہوں آتشدان کے آگے اولوں کے ڈھیر لگا دیتا ہوں پانی بن جاتا ہوں بارش، اے بارش! کتنی اچّھی ہے تُو مجھ…

Read More

منچندا بانی— ایک گم شدہ خواب کا مغنی ۔۔۔ ارشد نعیم

منچندا بانی — ایک گم شدہ خواب کا مغنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منچندا بانی نے آنکھ کھولی تو ایک ہزار سال کے تجربات سے تشکیل پانے والی ہند اسلامی تہذیب ایک حادثے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ہندوستان آزادی کی تحریک کا مرکز بنا ہوا تھا اور ہندوستان کی تقسیم آخری مراحل میں تھی اور ایک ایسی ہجرت کے سائے دو قوموں کے سر پر منڈلا رہے تھے جو لہو کی ایک ایسی لکیر چھوڑ جانے والی تھی جسے صدیوں تک مٹانا ممکن نہیں ہوگا۔ یہ احساس، یہ منڈلاتا ہوا خطرہ ہمیں…

Read More

اکبر الہ آبادی

بحثیں فضول تھیں، یہ کھلا حال دیر میں افسوس! عمر کٹ گئی لفظوں کے پھیر میں ………………………….. انتخابِ اکبر الہ آبادی تصیح ترتیب: ڈاکٹر صدیق الرحمٰن قدوائی مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، دریا گنج، دہلی جون ۱۹۷۳ء

Read More

اِک عجب منظرِ دہشت ہے کہ دِل ڈوبتا ہے ۔۔۔ رفیق سندیلوی

اِک عجب منظرِ دہشت ہے کہ دِل ڈوبتا ہے کس سمندر کی رفاقت ہے کہ دِل ڈوبتا ہے عالمِ فتح میں جاری ہے شجاعانہ رقص اور اِس رقص میں حیرت ہے کہ دِل ڈوبتا ہے نزع کی ، وہم کی یا خواب کی یا  رُویا کی کیا خبر کون سی حالت ہے کہ دِل ڈوبتا ہے دِل کو ہونا ہی تھا غرقاب کہ وقتِ رخصت جیسے اِنسان کی فطرت ہے کہ دِل ڈوبتا ہے برقِ یک جلوہ سے دِل پہلے لرز اُٹھتا تھا اَب وہ نظارۂ کثرت ہے کہ دِل…

Read More

المحدود ۔۔۔ آفتاب اقبال شمیم

المحدود ۔۔۔ درختوں سے پرانے چہچہے رخصت ہوئے باد آزما پتے فشارِ دم کی قلت سے بدن میں چڑمڑا کر، خاک پر خاشاک کی صورت پڑے ہیں یاد کے اس موسمِ افسوس میں ہر شاخ کا چہرہ غمِ ہجراں کی پرچھائیں سے سنولایا ہوا ہے خیر ہو، یہ ہجر و ہجرت نسل بعدِ نسل جاری ہے خزاں کی خیر ہوجس کا یہ کیلنڈر ابھی جینے کی تاریخوں سے خالی ہے شنید و دید کا مارا ہوا ہوں کس طرح دیکھوں وہ آوازیں جو بھیتر میں بپا ہیں ان درختوں کے…

Read More

شہزاد عادل

ہم ایسے لوگ طلب کے قمار خانے میں حیات بیچ کے جو کچھ ملا وہ ہار آئے

Read More

اُس کی شناخت اُس کے خیالات سے بھی ہو ۔۔۔ سید علی مطہر اشعر

اُس کی شناخت اُس کے خیالات سے بھی ہو وہ آشکار اپنی کسی بات سے بھی ہو ہم اتفاق کیسے کریں اُس کی رائے سے جب منحرف وہ اپنے بیانات سے بھی ہو ممکن ہے پیش رفتِ قیامِ سکوں کے بعد اُس کا کوئی مفاد فسادات سے بھی ہو پابندیِ وفا مری میراث ہی سہی کوئی اُمید اُس کی مگر ذات سے بھی ہو اُس شخص کو مزید پرکھنے کے واسطے کچھ دن گریز خوئے مدارات سے بھی ہو چہرے بھی پڑھتے رہیے کتابوں کے ساتھ ساتھ کچھ استفادہ صورتِ…

Read More

قہر ۔۔۔ محمد یعقوب آسی

قہر ۔۔۔ جانے کیسا قہر مچا ہے! کون بتائے، کسے بتائے کون کسی سے ڈر کے چُھپا ہے کس نے پہنی ہیں زنجیریں کیوں پہنی ہیں؟ زنداں کی دیواریں کس پر آن پڑی ہیں کس نے کس کو قتل کیا ہے کون بتائے، کسے بتائے سنتا بھی تو کوئی نہیں ہے!! …………………………… مجموعہ کلام: آئنے سے مکالمہ ۔۔ شاعری ( اُردو، پنجابی، فارسی) ناشر: آواز پبلی کیشنز، اقبال مارکیٹ، کمیٹی چوک، راولپنڈی مطبع: محمود برادرز پرنٹرز سنِ اشاعت: مارچ ۲۰۱۹ء

Read More

مجید امجد کی نظم نگاری ۔۔۔ شاہد شیدائی

مجید امجد کی نظم نگاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجید امجد کا شعری اطلس دھرتی کے تار و پود سے تیار ہوا ہے جس کی ملائمت اَور سوندھے پن نے ہر طرف اپنا جادو جگا رکھا ہے۔ اُن کی لفظیات اَور اِمیجری میں ہمارے اِرد گرد پھیلے شہروں‘ کھیتوں کھلیانوں‘ جنگلوں‘ پہاڑوں‘ میدانوں‘ دریاؤں اَور سبزہ زاروں کی خوشبو کچھ اِس انداز سے رچی بسی ہے کہ تخلیقات کا مطالعہ کرتے وقت قاری کو اپنا پورا وجود مہکتے ہوئے محسوس ہوتا ہے۔ مجید امجد نے اگرچہ غزل بھی کہی مگر اُن کی اصل…

Read More