ڈاکٹر خورشید رضوی ۔۔۔ ہوئے چمن میں مرے ترجماں گلاب کے پھول

Read More

نوید صادق … سرسری دل کی واردات نہیں

سرسری دل کی واردات نہیں محمد حسن عسکری کہتے ہیں کہ’’ مقدمہ شعر و شاعری‘‘ سے زیادہ تعریفیں کسی کتاب کی نہیں ہوئیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس کتاب سے زیادہ گالیاں بھی کسی کتاب کو نہیں پڑیں۔ صورتِ حال کچھ ایسی ہے کہ محمد حسن عسکری کی اس رائے سے اتفاق کرتے ہی بنتی ہے۔لیکن ہم اس بات کو ایک دوسرے زاویہ سے دیکھنے کی کوشش میں ہیں۔ بات کچھ یوں ہے کہ حالیؔ نے مقدمہ شعر و شاعری لکھ کر اپنی شاعری بالعموم اور غزل…

Read More

آفتاب خان … اگر یہ عشق مصیبت میں ڈالتا ہے مجھے

اگر یہ عشق مصیبت میں ڈالتا ہے مجھے فلک سے آکے فرشتہ نکالتا ہے مجھے میں روز ایک نئی بحر میں الجھتا ہوں یہ کون شعر و سخن میں اچھالتا ہے مجھے مرا شمار بھی ہوگا گناہ  گاروں میں وہ جانتا ہے مگر پھر بھی پالتا ہے مجھے میں زندگی میں کئی بار ڈگمگایا ہوں مگر وہی تو ہمیشہ سنبھالتا ہے مجھے قدم قدم پہ رکاوٹ کا سامنا ہے مگر وہ امتحان سے کندن میں ڈھالتا ہے مجھے بدن سے میل کسی طور اب اتر جائے وہ اس لیے لبِ…

Read More

توقیر عباس ۔۔۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کی ادبی تاریخ کے دائرے

ڈاکٹر جمیل جالبی کی ادبی تاریخ کے دائرے  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحقیق کا سب سے مہتمم بالشان کام کسی پورے ادب کی تاریخ لکھنا ہے۔ اس سے کہیں بڑا کام ذاتی تشخص کی نفی کرکے مؤرخانہ طبیعت کی تشکیل ہے ۔ تاریخ میں مؤرخ کے جذبات، خیالات اور افکار کا کہیں بھی در آنا، تاریخ کو متاثر کرتا ہے ۔ اس کے ساتھ زبان کا استعمال بھی تاریخ کے کسی واقعے کو کوئی بھی معنی پہنا سکتا ہے ۔جب یہ پوچھا جاتا ہے کہ تنقید، تحقیق، تدوین اور ادب کی زبان کیسی…

Read More

بدل گئی ہے بہت آس پاس کی صورت (غلام حسین ساجد) ۔۔۔۔ نوید صادق

بدل گئی ہے بہت آس پاس کی صورت (دیباچہ: مجموعہ کلام "اعادہ”) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستر کی دہائی اُردو غزل میں ایک انقلاب کی دہائی ہے۔ ثروت حسین، محمد اظہارالحق اور غلام حسین ساجد اِس انقلاب کے بڑوں میں سے نمایاں نام ہیں۔ثروت حسین نے ایک قلیل عرصۂ شعر میں اپنے انمول اور انمٹ نقوش ثبت کرنے کے بعد موت کو گلے لگا لیا، محمد اظہارالحق کچھ عرصہ بعد تقریباً خاموش ہو گئے۔ اب ان کی کبھی کبھار کوئی غزل نظر پڑتی بھی ہے تو یہی احساس ہوتا ہے کہ وہ ستّر…

Read More

باتیں ندیم کی (انٹرویو) ۔۔۔۔۔ حامد یزدانی

باتیں ندیم کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کتاب کبھی نہیں مر سکتی‘‘ (پاکستان کی معتبر ترین ادبی شخصیت جناب احمد ندیم قاسمی نے یہ انٹرویو، اپنی ۸۲ ویں سال گرہ پر ریکارڈ کروایاتھا) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حامد یزدانی: ندیم صاحب! آپ فرماتے ہیں: گو سفر تو دھوپ نگر کا ہے، یہ طلسم حسنِ نظر کا ہے  کہیں چھائوں قربِ جمال کی، کہیں فیضِ عشق کے سائے ہیں تو دھوپ چھائوں کے اِس سفر کے 82ویں پڑائو پر، جب احبابِ ندیم آپ کی سالگرہ کا جشن منا رہے ہیں، آپ خود کیا محسوس کر رہے ہیں؟…

Read More

کارواں ، اکتوبر 1969ء، جلد :26, شمارہ: 9

Download کارواں ، اکتوبر 1969ء، جلد 26, شمارہ 9  

Read More