الف د نسیم :عقیدۂ راسخہ کی غزل ڈاکٹر الف ۔ د ۔ نسیم کی ارد وغزل محبت کے اس سرمدی رشتے سے منسلک ہے ، جس کے فروغ میں ولی دکنیؒ، سراج اورنگ آبادیؒ، اورمیرزامظہرؒ سے خواجہ میردردؒ تک کے شعرانے حصہ لیا۔امیرمینائیؒ،بیدم شاہ وارثیؒ،فانی بدایونیؒ،امجدحیدرآبادیؒ،آسی غازی پوریؒ اوراصغر گونڈویؒ سے سید وجیہ السیماعرفانیؒ اوربابا ذہین شاہ تاجیؒ تک کے شعرانے اس محبوبۂ دل براں صنف سخن میں حسن وعشق کے ازلی وابدی تصورات کو شاعرانہ اندازمیں بیان کیاگیا۔’’تصوف برائے شعرگفتن خوب است‘‘والی بات ہمارے شعراکی تصوف اور اس کے…
Read MoreTag: اردو تنقید
اکرم کنجاہی… روایت کی دریافتِ نو کا شاعر (کاشف حسین غائر)
روایت کی دریافتِ نو کا شاعر (کاشف حسین غائر) کاشف حسین غائر ہمارے کراچی کے ان چند تازہ دم شعرا میں سے ہیں جن کے ہاں تھکاوٹ کا احساس نہیں۔ وہ بڑے سلیقے سے غزل کہہ رہاہے۔اُس نے غزل کو غزل سمجھ کر کہا ہے، اُس کی کوملتا پر حرف نہیں آنے دیا۔ اُس کے ہاں غزل اپنے پورے حسن، نزاکت اور لطافت کے ساتھ جلوہ ریز ہے۔ میں اِسے خالص غزل کا نام دوں گا کہ کاشف حسین غائر نے غزل میں زیادہ موضوعاتی تجربات کرنے کی بجائے اس…
Read Moreمنچندا بانی— ایک گم شدہ خواب کا مغنی ۔۔۔ ارشد نعیم
منچندا بانی — ایک گم شدہ خواب کا مغنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منچندا بانی نے آنکھ کھولی تو ایک ہزار سال کے تجربات سے تشکیل پانے والی ہند اسلامی تہذیب ایک حادثے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ہندوستان آزادی کی تحریک کا مرکز بنا ہوا تھا اور ہندوستان کی تقسیم آخری مراحل میں تھی اور ایک ایسی ہجرت کے سائے دو قوموں کے سر پر منڈلا رہے تھے جو لہو کی ایک ایسی لکیر چھوڑ جانے والی تھی جسے صدیوں تک مٹانا ممکن نہیں ہوگا۔ یہ احساس، یہ منڈلاتا ہوا خطرہ ہمیں…
Read Moreستیہ پال آنند کی نظم نگاری ۔۔۔ ڈاکٹر وزیر آغا
ستیہ پال آنند کی نظم نگاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند کی اُردو نظموں کا ایک خاص وصف یہ ہے کہ ان میں امیجز اور ان سے جڑے ہوئے معانی سیدھی لکیر اختیار نہیں کرتے۔ وہ قدم بہ قدم قوسیں بناتے اور یوں اپنی ہی جانب مڑتے چلے جاتے ہیں۔ معانی کا یہ سفر ہمہ وقت محسوسات کے زیریں آہنگ سے رس کشید کرتا ہے جس کے نتیجے میں ان کی نظمیں جمالیاتی حظ بہم پہنچانے میں بھی کامیاب ہیں۔ یہ بات اکثر دیکھنے میں آئی ہے کہ نظم کی بنت…
Read More"دست برگ” اور ”رن آن لائنز” کا چلن ۔۔۔ ڈاکٹر کالی داس گپتا رضا
مکتوب بنام ستیہ پال آنند ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "دست برگ” اور ”رن آن لائنز” کا چلن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ممبئی ۲۲ ِاپریل ۱۹۹۱ء محبی آنند صاحب! تسلیمات آپ نے مجھ ناچیز کو یاد فرمایا۔ بے حد ممنون ہوں۔ میں ماہرِ عروض نہیں ہوں۔ جو کچھ بھی استادِ محترم ابوالفصاحت پنڈت لبھورام جوش ملسیانی کے قدموں میں بیٹھ کر سیکھا، اسی سے مشقِ سخن ہوئی۔ کمال کرتارپوری بھی میرے بزرگوں میں سے تھے۔ آپ نے ان کا ذکرِ خیر کیا، گویا مجھے میری پرانی زندگی کی یاد دلا دی۔ مجھےتین چار بار آپ سے شرفِ…
Read Moreصاحبِ گداز: حسین امجد ۔۔۔ فائق ترابی
صاحبِ گداز حسین امجد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شعر دراصل ہیں وہی حسرت سنتے ہی دل میں جو اُتر جائیں حسرت کا یہ تصورِ شعر آج کے تجرباتی ادبی رویوں کی موجودگی میں بھی شاعروں کے ایک مخصوص قبیلے کی رگوں میں خون کی مانند گردش کرتا ہے- جنہیں اپنے ضمیر کی آواز کی ترسیل کےلیے کسی بناوٹی سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی- اُن کا تصور کسی انفرادی پیمانے اور پیرائے کا اسیر نہیں ہوتا- یہی ان کا انفراد ہوتا ہے- حسین امجد کی نسبت شعرا کے اُسی خانوادے سے ہے جو دل…
Read Moreبدل گئی ہے بہت آس پاس کی صورت (غلام حسین ساجد) ۔۔۔۔ نوید صادق
بدل گئی ہے بہت آس پاس کی صورت (دیباچہ: مجموعہ کلام "اعادہ”) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستر کی دہائی اُردو غزل میں ایک انقلاب کی دہائی ہے۔ ثروت حسین، محمد اظہارالحق اور غلام حسین ساجد اِس انقلاب کے بڑوں میں سے نمایاں نام ہیں۔ثروت حسین نے ایک قلیل عرصۂ شعر میں اپنے انمول اور انمٹ نقوش ثبت کرنے کے بعد موت کو گلے لگا لیا، محمد اظہارالحق کچھ عرصہ بعد تقریباً خاموش ہو گئے۔ اب ان کی کبھی کبھار کوئی غزل نظر پڑتی بھی ہے تو یہی احساس ہوتا ہے کہ وہ ستّر…
Read Moreباکمال شاعر،ادیب،نغمہ نگار،صحافی اورمترجم: سید یزدانی جالندھری ۔۔۔ سید ماجد یزدانی
باکمال شاعر،ادیب،نغمہ نگار،صحافی اورمترجم: سید یزدانی جالندھری (تیسویں برسی پر خصوصی تحریر) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یزدانی جالندھری اردو میں جدید کلاسیکی روایت کے ترجمان شاعر تھے۔ یزدانی جالندھری (1915ء-1990ء) کی ولادت پنجاب کے ادب خیز شہر جالندھر کے گیلانی سادات گھرانے میں ہوئی۔ ان کا خاندانی نام ابو بشیر سیّد عبدالرشید یزدانی اور والد کا نام سیّد بہاول شاہ گیلانی تھا جو محکمہ تعلیم میں صدر مدرس تھے. ابتدائی تعلیم جالندھر میں حاصل کی۔ تقسیمِ برِصغیر سے پہلے ہی ان کا خاندان منٹگمری (ساہیوال) منتقل ہو گیا اور یزدانی وہاں سے مزید تعلیم…
Read More