خالی بالٹی ۔۔۔۔۔۔۔ اب مجھے اُنہیں ڈھونڈنا ہے۔ سرکاری دورے کا آج آخری دن ہے۔ پچھلے چار دن میں مختلف رسمی ملاقاتوں اور باقاعدہ اجلاسوں میں کچھ یوں الجھا رہا کہ نہ تو قدم ڈھاکہ کی چند سرکاری عمارتوں کی سفید راہداریوں میں بھٹکتے تذبذب سے باہر نکل پائے اور نہ ہی ذہن اکڑی ہوئی کرسیوں کو کھینچ کرمستطیل میز کے قریب کرنے اور پھر گھسیٹ کر دُور کرنے کی دھیمی دھیمی گونج سے آزاد ہو پایا۔ ایک نو قائم شدہ ملک کے دارالحکومت میں مصروفیات کی ترتیب یا بے…
Read MoreTag: مضامین
پنجاب کا مقدمہ ۔۔۔ حنیف رامے
پنجاب کا مقدمہ حنیف رامے DOWNLOAD
Read Moreبچے ۔۔۔ پطرس بخاری
بچے ۔۔۔ یہ تو آپ جانتے ہیں کہ بچوں کی کئی قسمیں ہیں مثلاً بلی کے بچے ، فاختہ کے بچے وغیرہ۔ مگر میری مراد صرف انسان کے بچوں سے ہے، جن کی ظاہرا تو کئی قسمیں ہیں۔ کوئی پیارا بچہ ہے اور کوئی ننھا بچہ ہے، کوئی پھول سا بچہ ہے اور کوئی چاند سا بچہ ہے لیکن یہ سب اس وقت تک کی باتیں ہیں جب تک برخوردار پنگوڑے میں سویا پڑا ہے۔ جہاں بے دار ہونے پر بچے کے پانچوں حواس کام کرنے لگے، بچے نے ان…
Read Moreتصورِ احدیت ۔۔۔ ڈاکٹر غافر شہزاد
تصورِ احدیت ۔۔۔۔۔۔۔ شعور کی منازل طے کرنے والے انسان کے سامنے آج بھی چند سوال کھڑے ہیں، میں کون ہوں؟ کہاں سے آیا ہوں؟ کہاں چلا جاؤں گا؟ یہ کائنات کیا ہے؟ کہاں سے وجود میں آئی؟ میرا اور کائنات کا خالق کون ہے؟ انسان، کائنات اور خالق(خدا) تینوں کا باہمی تعلق کس نوعیت کا ہے؟ یہ ایسے دقیق سوالات ہیں کہ صدیوں کی مغزماری، تحقیق اور سائنسی تجربات ابھی تک ان سوالات کے جوابات دینے سے قاصر ہیں۔ کائنات کے بارے میں انسان نے جو سوچا کئی صدیوں…
Read Moreمنچندا بانی— ایک گم شدہ خواب کا مغنی ۔۔۔ ارشد نعیم
منچندا بانی — ایک گم شدہ خواب کا مغنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منچندا بانی نے آنکھ کھولی تو ایک ہزار سال کے تجربات سے تشکیل پانے والی ہند اسلامی تہذیب ایک حادثے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ہندوستان آزادی کی تحریک کا مرکز بنا ہوا تھا اور ہندوستان کی تقسیم آخری مراحل میں تھی اور ایک ایسی ہجرت کے سائے دو قوموں کے سر پر منڈلا رہے تھے جو لہو کی ایک ایسی لکیر چھوڑ جانے والی تھی جسے صدیوں تک مٹانا ممکن نہیں ہوگا۔ یہ احساس، یہ منڈلاتا ہوا خطرہ ہمیں…
Read Moreمجید امجد کی نظم نگاری ۔۔۔ شاہد شیدائی
مجید امجد کی نظم نگاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجید امجد کا شعری اطلس دھرتی کے تار و پود سے تیار ہوا ہے جس کی ملائمت اَور سوندھے پن نے ہر طرف اپنا جادو جگا رکھا ہے۔ اُن کی لفظیات اَور اِمیجری میں ہمارے اِرد گرد پھیلے شہروں‘ کھیتوں کھلیانوں‘ جنگلوں‘ پہاڑوں‘ میدانوں‘ دریاؤں اَور سبزہ زاروں کی خوشبو کچھ اِس انداز سے رچی بسی ہے کہ تخلیقات کا مطالعہ کرتے وقت قاری کو اپنا پورا وجود مہکتے ہوئے محسوس ہوتا ہے۔ مجید امجد نے اگرچہ غزل بھی کہی مگر اُن کی اصل…
Read Moreافضل خان کی غزل ۔۔۔ نوید صادق
افضل خان کی غزل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عہدِ جدید نے جہاں بہت سی آسانیاں پیدا کیں، وہاں نفسیاتی اُلجھنوں کو بھی جنم دیا، رواروی کو رواج دیا۔ فارسی غزل سے ہوتی ہوئی جو محبت ہماری غزل میں آن داخل ہوئی، اس کو محض ایک روایت یا نقالی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ایک انسانی تجربہ ہے جو ہر دور میں مختلف رہا ہے۔ اس میں مختلف عوامل دخیل رہے ہیں۔ میر کا عشق، غالب کا عشق، فراق کا عشق اور پھر ہمارے قریب کے عہد میں ناصر کاظمی کا عشق ۔۔۔…
Read Moreسیاسی نجومی اور کرونا وائرس ۔۔۔ نوید صادق
میرا پاکستان ۔۔۔۔۔ سیاسی نجومی اور کرونا وائرس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہو جس میں ہر شخص ڈاکٹر، ہر فرد انجینئر ، ہر ذی روح ۔۔۔۔ انگریزی کی مشہور کہاوت Jack of all trades but master of none شاید ہم سے بہتر کسی اور قوم پر صادق نہ آتی ہو۔ اب اس کورونا ہی کو لے لیجیے، ریڑھی بان سے سیاست دان تک ۔۔۔ ایک سے ایک نجومی کارگاہِ کورونا میں دخل در نامعقولات کرتا ملے گا۔ یہ شاید ہماری قومی فطرت کا حصہ بن چکا ہے۔…
Read Moreفراز صاحب(خاکہ) ۔۔۔ اسحاق وردگ
فراز صاحب (خاکہ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم وہ خوش نصیب نسل ہیں جسے احمد فراز صاحب سے ملنے،شعر سننے،مکالمہ کرنے،ہاتھ ملانے اور آٹوگراف لینے کے بے شمار مواقع انعام ہوئے۔۔۔! یہ دیارِ ادب میں خوش نصیبی کی اعلا مثال ہے کہ فراز صاحب پشاور میں پلے بڑھے،ادبی اٹھان کی خوش بختی ملی۔۔۔ مجھے بھی اس شہرِ ہفت زبان میں جنم لینے، ابتدائی تعلیم حاصل کرنے اور ان گلیوں میں سانس لینے کے موسم ملے ۔۔۔ آج بھی پشاور کے قہوہ خانوں، ادبی حجروں اور شہر کی قدیم گلیوں میں فراز صاحب کے…
Read Moreباتیں ندیم کی (انٹرویو) ۔۔۔۔۔ حامد یزدانی
باتیں ندیم کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کتاب کبھی نہیں مر سکتی‘‘ (پاکستان کی معتبر ترین ادبی شخصیت جناب احمد ندیم قاسمی نے یہ انٹرویو، اپنی ۸۲ ویں سال گرہ پر ریکارڈ کروایاتھا) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حامد یزدانی: ندیم صاحب! آپ فرماتے ہیں: گو سفر تو دھوپ نگر کا ہے، یہ طلسم حسنِ نظر کا ہے کہیں چھائوں قربِ جمال کی، کہیں فیضِ عشق کے سائے ہیں تو دھوپ چھائوں کے اِس سفر کے 82ویں پڑائو پر، جب احبابِ ندیم آپ کی سالگرہ کا جشن منا رہے ہیں، آپ خود کیا محسوس کر رہے ہیں؟…
Read More